مضامین بشیر (جلد 2) — Page 298
مضامین بشیر ۲۹۸ درود میں حضرت ابراہیم کا نام داخل کرنے کی حکمت كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ کے الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دائمی شان کا اظہار مقصود ہے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ اس کی وجہ کیا ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ مجھے بچپن سے ہی تمام گزشتہ نبیوں میں ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ سب سے زیادہ محبت رہی ہے۔مگر چونکہ (فداہ نفسی ) سرور کائنات حضرت محمد مصطفے صلے اللہ علیہ وسلم کی محبت سب دوسری محبتوں پر غالب ہے اور نہ صرف غالب ہے بلکہ اتنی غالب ہے کہ کسی دوسرے نبی کی محبت کو آپ کی محبت سے کوئی نسبت ہی نہیں۔اس لئے حضرت ابراہیم کی خاص محبت کے باوجود مجھے بچپن سے درود کا یہ فقرہ کہ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ( یعنی اے خدا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس طرح برکتیں نازل کر جس طرح تو نے حضرت ابرا ہیم پر نازل کیں ) کھٹکا کرتا تھا اور میں خیال کیا کرتا تھا کہ بظاہر ان الفاظ سے حضرت ابراہیم کی افضلیت ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس دعا میں حضرت ابراہیم کی مثال کا حوالہ دینا یہی ظاہر کرتا ہے کہ حضرت ابراہیم کو کوئی ایسی خاص برکت حاصل ہے جو ابھی تک ہمارے آنحضرت ﷺ کو حاصل نہیں اور اس خیال کی وجہ سے میں اکثر درود پڑھتے ہوئے بے چین ہو جایا کرتا تھا کہ خدایا ! یہ کیا بات ہے کہ ہمارا نبی افضل الرسل اور سيد ولد آدم ہے اور پھر بھی درود میں یہ الفاظ داخل کئے گئے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اسی طرح برکتیں نازل ہوں جس طرح حضرت ابرا ہیم پر نازل ہوئیں۔آخر میں نے سوچ کر تشریح کا یہ راستہ نکالا کہ حضرت ابراہیم کی مثال دینے میں برکتوں کے درجہ کی طرف اشارہ کرنا مقصود نہیں بلکہ صرف ان کی نوعیت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔اور چونکہ حضرت ابرا ہیم کونسل کی کثرت کا غیر معمولی امتیاز حاصل ہوا ہے اور ان کی نسل کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہوئی ہے کہ اس میں کثیر تعداد میں نبی پیدا ہوئے۔اس لئے میں خیال کرتا تھا کہ شاید اسی وجہ سے حضرت ابراہیم کی مثال بیان کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے درود والی دعا کی جاتی ہے مگر پھر بھی میرا دل پوری طرح تسلی نہیں پاتا تھا اور درود کے ان الفاظ پر پہنچ کر کہ کما صلیت علی ابراهیم مجھے ہمیشہ ایک