مضامین بشیر (جلد 2) — Page 109
1+9 مضامین بشیر آسکتے۔بلکہ اس صورت میں وہ ان عہد شکنوں کے قانون کے نیچے آئیں گے جو ایک باقاعدہ سمجھوتہ کے نتیجہ میں علیحدہ ہوتے ہیں۔اور پھر بھی دل میں بد عہدی کے خیالات رکھ کر حملہ کی سکیم سو چتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اگر سکھ لوگ علیحدہ ہو کر منظم اور مضبوط ہوں گے تو کیا مسلمان جو اس وقت بھی صرف مغربی پاکستان میں سکھوں سے قریباً آٹھ گنے زیادہ ہیں۔اپنی موجودہ حالت میں ہی بیٹھے رہیں گے۔اور تعداد اور تنظیم اور طاقت اور سامان وغیرہ میں کوئی ترقی نہیں کریں گے۔مکرمی ایڈیٹر صاحب ! اپنے اس خیالی بہشت سے نکل کر ذرا حقیقت کے میدان میں تشریف لائیے۔تو آپ کو معلوم ہوگا کہ قوموں کی خواہیں محض دل کی خواہش کے نتیجہ میں پوری نہیں ہوا کرتیں۔بلکہ یا تو ان کے پیچھے زبر دست روحانی اسباب کارگر ہوا کرتے ہیں اور یا انہیں ایسے ٹھوس مادی اسباب کا سہارا حاصل ہوتا ہے۔جن کی حقیقت کو دنیا تسلیم کرتی ہے۔آپ فرمائیں کہ آپ کے پاس ان دونوں قسم کے اسباب میں سے کونسی قسم کا سہارا موجود ہے؟ ہاں بے شک اس وقت ہندوؤں کا سہارا آپ کو ضرور حاصل ہے۔مگر آپ خود سوچیں کہ یہ سہارا کب تک قائم رہ سکتا ہے۔آخر آپ کی اپنی قوم کی گزشتہ تاریخ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے۔میں یہ باتیں خالص ہمدردی کے خیال سے عرض کر رہا ہوں۔انہیں بُرا نہ مانیں اور ٹھنڈے دل سے سوچ کر کسی صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کریں۔ایڈیٹر صاحب ” شیر پنجاب نے احمد یہ جماعت کو بھی ہوشیار کیا ہے کہ وہ ان ظلموں کو یاد کریں جو گزشتہ زمانہ میں مسلمان ان پر کرتے رہے ہیں۔میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ مسلمانوں کا ایک حصہ احمد یوں کی مخالفت میں پیش پیش رہا ہے اور ہمیں اپنی تلخ آپ بیتی بھولی نہیں بلکہ وہ ہماری تاریخ کا ایک سنہری ورق ہے جس نے ہمیں قومی بیداری اور تنظیم کے بہت سے بچے سبق سکھائے ہیں مگر با وجود اس کے مجھے افسوس ہے کہ آپ کا یہ داؤ ہم پر نہیں چل سکتا۔کیونکہ ہماری گھٹی میں یہ تعلیم پڑی ہوئی ہے کہ مخالفت میں فرد کی طرف نہ دیکھو بلکہ اصول کی طرف دیکھو۔اور دشمنی انسانوں کے ساتھ بھی نہ رکھو۔بلکہ صرف برے خیالات کے ساتھ رکھو۔کیونکہ کل کو یہی مخالف لوگ اچھے خیالات اختیار کر کے دوست بن سکتے ہیں۔چنانچہ احمدیوں کا پچانوے فیصدی حصہ دوسرے مسلمانوں میں سے ہی نکل کر آیا ہے۔پس اگر گزشتہ زمانہ میں کسی نے ہم پر ظلم کیا ہے تو اس وقت ہم اسکے ظلم کو حوالہ بخدا کر کے صرف یہ دیکھیں گے کہ انصاف کا تقاضا کیا ہے۔اور افراد کے متعلق ہم بہر حال عفوا اور رحم کے عنصر کو مقدم کریں گے۔میرا یہ خیال آپ کے اعتراض کے جواب میں گھڑا نہیں گیا۔بلکہ جب ۱۹۳۹ ء میں میں نے سلسلہ احمدیہ کے حالات میں ایک کتاب لکھی تو اس وقت بھی بعض غیر احمدی مسلمانوں کے مظالم کا ذکر کر کے احمدیوں کو نصیحت کی تھی کہ جب خدا انہیں طاقت عطا کرے تو وہ اپنے گزرے ہوئے مخالفوں