مضامین بشیر (جلد 2) — Page 110
مضامین بشیر 11۔کے ظلموں کو یاد کر کے اپنی طبیعت میں غصہ نہ پیدا ہونے دیں بلکہ عفو اور رحم سے کام لیں۔چنانچہ میرے الفاظ یہ تھے :- ” ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بھی یہی کہتے ہیں۔ہاں وہی نسلیں جن کے سروں پر بادشاہی کے تاج رکھے جائیں گے کہ جب تمہیں خدا دنیا میں طاقت دے۔اور تم اپنے مخالفوں کا سر کچلنے کا موقع پاؤ۔اور تمارے ہاتھ کو کوئی انسانی طاقت روکنے والی نہ ہو۔تو تم اپنے گزرے ہوئے دشمنوں کے ظلموں کو یاد کر کے اپنے خونوں میں جوش نہ پیدا ہونے دینا اور ہمارے اس کمزوری کے زمانہ کی لاج رکھنا تا لوگ یہ نہ کہیں کہ جب یہ کمزور تھے تو اپنے مخالفوں کے سامنے دب کر رہے۔اور جب طاقت پائی تو انتقام کے ہاتھ کو لمبا کر دیا۔بلکہ تم اس وقت بھی صبر سے کام لینا اور اپنے انتقام کو خدا پر چھوڑ نا کیونکہ وہی اس بات کو بہتر سمجھتا ہے کہ کہاں انتقام ہونا چاہئے اور کہاں عفو اور درگزر بلکہ میں کہتا ہوں کہ تم اپنے ظالموں کی اولادوں کو معاف کرنا اور ان سے نرمی اور احسان کا سلوک کرنا کیونکہ تمہارے مقدس آقا نے یہی کہا ہے کہ اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاه دار کا خر کنند دعوائے حب بلکہ مسلمانوں پر ہی حصر نہیں۔تم ہر قوم کے ساتھ عفو اور نرمی اور احسان کا سلوک کرنا اور ان کو اپنے اخلاق اور محبت کا شکار بنانا۔کیونکہ تم دنیا میں خدا کی آخری جماعت ہو۔اور جس قوم کو تم نے ٹھکرا دیا۔اس کے لئے کوئی اور ٹھکانہ نہیں ہو گا۔اے زمین اور اے آسمان گواہ رہو کہ ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو خدا کے بچے مسیح کی رحمت اور عفو کا پیغام پہنچا دیا۔کیا اس تعلیم کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی شخص یا کسی قوم کی وقتی انگیخت مسلمانوں کے خلاف جن کے ساتھ ہمارا ایک شریعت اور ایک خاتم النبین کا دائمی رشتہ قائم ہے۔بلکہ میں کہتا ہوں کہ کسی قوم کے خلاف جس نے ہم پر کبھی کوئی ظلم کیا ہو۔ہمارے دلوں کو مستقل طور پر میلا کر سکتی یا ہمیں انصاف کے رستہ سے ہٹا سکتی ہے؟ گذشتہ کو جانے دو۔فرض کرو کہ آئندہ بھی کسی قوم کا ہاتھ ہمارے خلاف ظلم اور تعدی کے رنگ میں اٹھتا ہے تو بے شک خدا اور قانون ہمیں خود حفاظتی کا حق دیتے ہیں مگر ہم کبھی بھی کسی فرد یا قوم کو اپنا مستقل دشمن نہیں سمجھ سکتے۔اور دوسرے کی ہر نیک تبدیلی ہمیں اس کے مخلصانہ خیر مقدم