مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 108 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 108

مضامین بشیر ۱۰۸ عوام الناس کے ایک محدود طبقہ کے وقتی اور محدود ابال کو جو وہ بھی دراصل ملک کے ایک اور حصہ کی صدائے بازگشت تھی اس منتظم اور مسلسل اور وسیع اور ساری قوم پر پھیلی ہوئی مخالفت پر قیاس کرنا جس سے مقدس بانی اسلام کو دو چار ہونا پڑا، میرے لئے انتہائی حیرت کا موجب ہے۔مگر میں اسے بھی اُس عارضی اعصابی ہیجان کا ایک حصہ قرار دیتا ہوں۔جس میں اس وقت سکھ قوم اپنے وقتی جوش وخروش کے عالم میں مبتلا ہے۔اسی سوال کے دوران میں شیر پنجاب نے جو یہ بات لکھی ہے کہ بانی اسلام کی طرح سکھ قوم بھی کسی دن اپنے وطن کو فتح کرے گی۔سو ایڈیٹر صاحب شیر پنجاب مجھے معاف کریں۔یہ خیال بھی ایک ہوائی خواہش بلکہ ایک نا پاک خواہش سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا۔کیونکہ جب دو قو میں ایک با قاعدہ سمجھوتہ کے نتیجہ میں ایک دوسرے سے الگ ہو رہی ہیں۔تو پھر ابھی سے ایک قوم کا دوسری قوم کے متعلق یہ اعلان کرنا کہ وہ اسے بعد میں فتح کر کے مغلوب کرلے گی۔ہرگز دیانت داری اور شرافت کا اعلان نہیں سمجھا جا سکتا۔آنحضرت یہ کفار کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کر کے الگ نہیں ہوئے تھے۔بلکہ ان کے مظالم سے تنگ آکر اور ان کی وسیع سازشوں کا شکار ہو کر اپنے شہر سے خفیہ طور پر نکل جانے پر مجبور ہوئے تھے۔بلکہ حقیقہ اپنے شہر سے نکالے گئے تھے۔اور اس کے بعد بھی دشمن قوم نے آپ کا پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔لیکن یہاں ایک قوم ایک تیسری قوم کے ذریعہ سے جو اس وقت ملک میں حاکم ہے۔ایک دوسری قوم کے ساتھ ایک باقاعدہ سیاسی سمجھوتہ کے نتیجہ میں خود اپنے آپ کو دوحصوں میں بانٹ کر علیحدہ کر رہی ہے۔بے شک ایسی صورت میں بھی ان کے لئے اپنے عہد و پیمان کو توڑ کر ہر وقت مسلمان علاقہ پر حملہ آور ہونے کا دروازہ کھلا ہے مگر کیا ایسے ظالمانہ اور غدارانہ حملہ کو خدا کی طرف سے وہ برکت حاصل ہو سکتی ہے۔جو اسلام کے مقدس بانی کو ہر جہت سے مظلوم ہونے کی صورت میں حاصل ہوئی۔ہرگز نہیں ہر گز نہیں ہرگز نہیں۔پھر ایڈیٹر صاحب شیر پنجاب اس بات کو بھی بھولے ہوئے ہیں۔کہ آنحضرت یہ خدا کے ایک نبی تھے۔اور اپنے نبیوں کے متعلق خدا کا یہ ازلی قانون ہے کہ جب تک وہ اپنے وطن میں امن کی حالت میں رہتے ہیں وہ ایک بیج کا حکم رکھتے ہیں جو زمین سے پھوٹ کر آہستہ آہستہ ایک بڑا درخت بنتا جاتا ہے۔لیکن اگر ان کی قوم ان کو اپنے ظلموں کی چکی میں پیس کر وطن سے بے وطن ہونے پر مجبور کر دے۔تو پھر یہی بیج ایک ایٹم بمب کی صورت اختیار کر کے ان کے دشمنوں پر گرتا اور انہیں تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔اور اس تباہی کے نتیجہ میں ان کے واسطے ایک نئی زمین اور نیا آسمان پیدا ہو جاتا ہے۔سکھوں میں بھی اگر خدا کے ہاتھ کا بنایا ہوا کوئی ایٹم بمب موجود ہے تو مجھے اس کا علم نہیں ورنہ سکھ صاحبان یا درکھیں کہ وہ ہرگز نبیوں والے قانون کے نیچے نہیں