مضامین بشیر (جلد 2) — Page 107
۱۰۷ مضامین بشیر ہند و جاٹ بھی آباد ہیں۔جو نسلاً تو ضرور جاٹ ہیں مگر مذ ہبا سکھ نہیں بلکہ ہند و ہیں لیکن جو ناطہ اور جو جوڑ وسطی پنجاب کے سکھ جائوں اور مسلمان جائوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔اس کا عشر عشیر بھی وسطی پنجاب کے سکھ جاٹوں اور رہتک کے ہندو جاٹوں کے درمیان نہیں پایا جاتا۔بلکہ میں کہتا ہوں کہ جو فطری جوڑ وسطی پنجاب کے غیر جاٹ مسلمان زمینداروں اور سکھ جائوں کے درمیان نظر آتا ہے وہ بھی وسطی پنجاب کے سکھ جاٹوں اور رہتک کے ہندو جاٹوں کے درمیان نظر نہیں آتا۔یہ وہ ٹھوس حقائق ہیں جن کا کوئی عقلمند شخص انکار نہیں کرسکتا۔اس کے علاوہ میں نے لکھا تھا کہ اپنی قوم کا جو حصہ سکھ لوگ مغربی اور وسطی پنجاب میں چھوڑ رہے ہیں۔وہ ان کی قوم کا بہترین حصہ ہے جسے انگریزی میں کسی قوم کا فلاور (Flower) یعنی پھول کہتے ہیں۔قد و قامت میں ، جسمانی طاقت میں ، دماغی طاقت میں ، طبیعت کی فیاضی میں، تعلیم میں، زمیندارہ میں ، تجارت میں یہ حصہ سکھ قوم کی چوٹی کا حصہ ہے۔اسے پیچھے چھوڑ کر اور مشرقی پنجاب میں اپنے آدھے دھڑ کے لئے ہندوؤں کا سہارا لے کر جن کے ساتھ ان کا کوئی طبعی جوڑ نہیں۔سکھ لوگ کیا کریں گے؟ میں تکلف سے نہیں کہتا بلکہ دل کی گہرائیوں سے کہتا ہوں کہ وقت نازک ہے اور بہت نازک ہے۔اے خالصہ قوم آنکھیں کھول کہ تیرے سر پر سیاہ بادلوں کی ٹکڑیاں بدشگونی کے انداز میں منڈلا رہی ہیں۔باقی رہاشیر پنجاب کا یہ کہنا کہ پیغمبر اسلام نے بھی مکہ سے ہجرت کی تھی اور بالآخر مدینہ میں طاقت پکڑ کر مکہ کو دوبارہ فتح کیا تھا اور اب پنجاب کے سکھ لوگ بھی یہی کریں گے کہ مشرقی پنجاب میں طاقت پکڑ کر پھر مغربی پنجاب پر غلبہ پالیں گے۔سو یہ ایک محض دل کو خوش کرنے والی بات ہے جس کے اندر کچھ حقیقت نہیں۔کیونکہ اول تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت عوام الناس کے ایک طبقہ کے شور کی وجہ سے نہیں تھی۔بلکہ مکہ کی ساری قوم ( مرد۔عورت۔بوڑھے۔جوان۔لیڈ راور عوام ) آپ کے خلاف ایک متحدہ سازش کے نتیجہ میں اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور ہر شخص اس باقاعدہ اعلان میں شامل تھا کہ ہم اسلام اور اس کے بانی کو مٹا کر چھوڑیں گے۔مگر یہاں کے فسادات ( قطع نظر اس کے کہ پہل کس کی طرف سے ہوئی ہے ) صرف عوام کے ایک قلیل طبقہ تک محدود رہے ہیں۔جس کے خلاف مسلمان لیڈروں کا ہر حصہ کھلے اور واضح الفاظ میں نفرت اور بیزاری کا اظہار کر چکا ہے۔بلکہ اس اظہار کے ساتھ ساتھ وہ سکھ قوم کو تعاون اور صلح کی دعوت بھی دے رہا ہے۔ان حالات میں سکھوں کی موجودہ حالت کو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے حالات پر قیاس کرنا جبکہ خود مکہ کے لیڈر اسلام کی مخالفت میں آگے آگے تھے، ایک ایسا قیاس ہے جس کے ساتھ کوئی غیر متعصب شخص جو ٹھنڈے دل سے اس سوال پر نظر ڈالنے کے لئے تیار ہو کبھی اتفاق نہیں کر سکتا۔