مضامین بشیر (جلد 1) — Page 68
مضامین بشیر ۶۸ آخری اعتراض ڈاکٹر صاحب کا اصل مسئلہ کے متعلق ہے۔ڈاکٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں :- حضرت صاحب کے اصحاب میں سے کوئی شخص یہ بتا سکتا ہے کہ حضرت صاحب کے کسی قول یا فعل سے صراحتہ یا کنایہ کبھی ایسا محسوس ہوا ہو کہ آپ منگل کے دن کو منحوس سمجھتے تھے۔قرآن میں کہیں نہیں ، حدیث میں کہیں نہیں ، حضرت صاحب کی تقریر و تحریر میں کہیں نہیں۔اگر منگل کا دن ایسا ہی منحوس تھا تو کیا آپ کا فرض نہ تھا کہ اس راز کو جماعت کو بتلا جاتے کس قدر لغو! کہ وہ شخص جو قرآن کا بینظیر علم رکھتا تھا جس کے فیض صحبت سے بہت سے امی عالم قرآن بن گئے۔وہ قرآن کی یہ آیت معاذ اللہ نہ جانتا تھا۔کہ سَخَّرَ لَكُمُ مَّا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِیعاً ۱۵ کہ جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب کچھ تمہاری خدمت میں لگا ہوا ہے۔وہ شخص جو انسان کی خلافت الہی کا نکتہ جماعت کو بتلا گیا وہ نعوذ باللہ منگل سے ڈرتا تھا۔اور دعا کرتا تھا کہ منگل کا دن ٹل جاوے گویا منگل کا دن ٹل جائے گا تو تقدیر الہی بدل جائے گی۔“ کاش یہ زور قلم صداقت کی تائید میں خرچ ہوتا ! کاش یہ لفاظی حقیقت پر پردہ ڈالنے میں استعمال نہ کی جاتی۔میں ڈاکٹر صاحب کی جرات پر حیران ہوں کہ اپنے مطلب کے حاصل کرنے کے لئے کس طرح ایک چھوٹی سی بات کو بڑھا کر اس طرح آہ و پکار شروع کر دیتے ہیں کہ گویا دنیا میں ایک ظلم عظیم بر پا ہو گیا ہے۔جس کے مقابلہ کے لئے ڈاکٹر صاحب اپنی زندگی کی اعلیٰ ترین طاقتیں وقف کر دینا چاہتے ہیں۔ایک سرسری سی بات تھی کہ دن اپنی برکات اور تاثیرات کے لحاظ سے ایک دوسرے سے متفاوت ہیں اور اس میزان میں منگل کا دن سب سے سخت ہے۔اب اس پر یہ واویلا اور یہ شور پکار کہ گویا آسمان ٹوٹ پڑا ہے۔کہاں کا انصاف ہے۔ڈاکٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ : - حضرت صاحب کے اصحاب میں سے کوئی شخص یہ بتا سکتا ہے کہ حضرت صاحب کے کسی قول یا فعل سے صراحتہ یا کنا یہ کبھی ایسا محسوس ہوا ہو کہ آپ منگل کے دن کو منحوس سمجھتے تھے۔“ غیظ وغضب میں سب کچھ بھول جانے والے ڈاکٹر صاحب خدا کے لئے یہ منحوس کا لفظ ترک کر دیجئے۔غالباً آپ کے سوا دنیا کا ہر فرد بشر یہ گواہی دے سکتا ہے کہ میری تحریر میں کسی جگہ منگل کے دن کے متعلق منحوس یا اس کا کوئی ہم معنی لفظ استعمال نہیں ہوا اور میں خدا کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ میری