مضامین بشیر (جلد 1) — Page 69
۶۹ مضامین بشیر نیت میں بھی یہ نہ تھا کہ منگل کوئی منحوس دن ہے تو پھر اس ظلم کے کیا معنی ہیں کہ آپ اس تکرار اور اس اصرار کے ساتھ میری طرف یہ لفظ منسوب کرتے جاتے ہیں۔اگر آپ کو دنیا کا ڈر نہیں ہے تو خدا سے ہی ڈریئے۔باقی آپ کا یہ فرمانا کہ کیا حضرت صاحب کے اصحاب میں سے کوئی ہے جو یہ بیان کر سکے کہ حضرت صاحب کا ایسا خیال تھا۔اس کے جواب میں عرض ہے کہ شاید آپ بھول گئے ہوں میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ اس روایت کے راوی حضرت کے اصحاب میں سے ہی ہیں۔پہلی روا یہ حضرت والدہ صاحبہ ہیں جن کے صحابیہ ہونے سے آپ با وجود اس قدر مخالفت کے بھی انکار نہیں کر سکتے۔دوسرے راوی حضرت خلیفہ ثانی ہیں جو وہ بھی صحابیوں میں سے ہیں۔پھر نا معلوم آپ کس صحابی کی شہادت ڈھونڈتے ہیں اور اگر آپ کا یہ منشاء ہے کہ ان راویوں کے علاوہ کوئی اور راوی ہو تو اول تو اس ترجیح بلا مرجح کی کوئی وجہ چاہیئے کہ حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفہ ثانی کی روایت کیوں منظور نہیں اور دوسروں کی کیوں منظور ہے۔اور پھر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جب میں نے کوئی اور شہادت پیش کی تو آپ یہ نہ فرمائیں گے۔کہ اس راوی کی شہادت بھی میں نہیں مانتا۔کوئی اور راوی لاؤ تب مانوں گا۔آپ خود فرمائیں کہ اس طرح یہ سلسلہ بھی بند بھی ہوسکتا ہے مگر چونکہ آپ کو بہت اصرار ہے اس لئے ایک اور شہادت پیش کرتا ہوں۔امید ہے اس شہادت کے متعلق آپ کو جرح کا خیال نہیں آئے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحفہ گولڑویہ میں تحریر فرماتے ہیں : - ستارے فقط زینت کے لئے نہیں ہیں جیسا کہ عوام خیال کرتے ہیں بلکہ ان میں تاثیرات ہیں۔یعنی نظام دنیا کی محافظت میں ان ستاروں کو دخل ہے۔اسی قسم کا دخل جیسا کہ انسانی صحت میں دوا اور غذا کو ہوتا ہے ( یعنی وہ دنیا اور اہل دینا پر دوا اور غذا کی طرح اچھا اور برا اثر ڈالتے ہیں پس واقعی اور صحیح امر یہی ہے کہ ستاروں میں تاثیرات ہیں جن کا زمین پر اثر ہوتا ہے لہذا اس انسان سے زیادہ تر کوئی دنیا میں جاہل نہیں کہ جو بنفشہ اور نیلوفر اور تربد اور سقمونیا اور خیارشنبر کی تاثیرات کا تو قائل ہے۔( جیسا کہ اطباء لوگ قائل ہوتے ہیں۔اور خوش قسمتی سے ڈاکٹر بشارت احمد صاحب بھی طبیب ہیں اور ان ادویہ کی تاثیرات کے ضرور قائل ہوں گے مگر ان ستاروں کی تاثیرات کا منکر ہے جو قدرت کے ہاتھ کے اول درجہ پر بجلی گاہ اور مظہر العجائب ہیں۔۔یہ لوگ جو سرا پا جہالت میں غرق ہیں اس علمی سلسلہ کو شرک میں داخل کرتے ہیں۔14