مضامین بشیر (جلد 1) — Page 67
۶۷ مضامین بشیر کا اثر محدود رہتا ہے اور چونکہ ستارے اس عالم دنیوی کا ایک حصہ ہیں اس لئے ان کا اثر بھی اسی دنیا تک محدود ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی جس پر ڈاکٹر صاحب اعتراض پیدا کرتے اور یہ خیال کہ اگر کسی ستارہ کا اثر اس دنیا کے اوپر کسی خاص رنگ میں پڑ رہا ہے تو ضرور ہے کہ آخرت پر بھی اس کا وہی اثر پڑتا ہو۔ایک طفلانہ خیال ہے۔ایک درخت اگر ایک جگہ سایہ ڈال رہا ہے تو کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ وہ دوسری جگہ بھی سایہ ڈال رہا ہو گا۔آخر اللہ تعالیٰ کی حکیمانہ قدرت نے جو قانون مخلوقات میں جاری کیا ہے وہی چلے گا۔اور ڈاکٹر صاحب یا کسی اور کی مرضی اس میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر سکتی۔اور ڈاکٹر صاحب کا یہ فرمانا کہ وفات کے وقت تو حضرت صاحب ابھی دنیا میں ہی تھے۔تو کیا ان کے لئے وہ ایک مبارک گھڑی آ رہی تھی یا منحوس ! یعنی اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ آخرت پرستاروں کا کوئی اثر نہیں پھر بھی اس اعتراض کا کیا جواب ہے کہ قرب وفات کے وقت تو حضرت صاحب ابھی دنیا میں ہی تھے۔(اور چونکہ دنیا ستاروں کے اثر کے نیچے ہے اور وہ منگل کا دن تھا ) تو کیا وصال محبوب کی آمد آمد حضرت صاحب کے لئے منحوس تھی ؟ اس کے جواب میں عرض ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی طبیعت میں جو قابل افسوس میلان نحوست و منحوس وغیرہ کی طرف پیدا ہو گیا ہے اس کے متعلق عرض کر چکا ہوں کہ اس کے وہ خود ذمہ دار ہیں ، میرا اس میں قطعاً کوئی دخل نہیں۔میں نے نہ یہ الفاظ لکھے اور نہ ان کا مفہوم میرے ذہن میں تھا۔میں نے تو صرف یہ لکھا تھا کہ حضرت صاحب منگل کے دن فوت ہوئے تھے اور وہ دن دنیا کے لئے ایک مصیبت کا دن تھا۔لیکن چونکہ زمانہ کا اثر دنیا تک محدود ہے اس لیئے آخرت کے نقطہ نگاہ سے وہ گھڑی حضرت صاحب کے لئے وصال محبوب کی مبارک گھڑی تھی۔اور ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ان دو باتوں میں قطعاً کوئی تناقص نہیں کیونکہ دو مختلف موقعوں کے لحاظ سے دو مختلف حالتیں ہوسکتی ہیں۔فرض کرو کہ ایک دائرہ ہے کہ جو سختی اور شدائد کا حلقہ ہے۔اور اس کے باہر ایک مقام آرام اور خوشی کا ہے۔اب اگر ایک شخص اس دائرہ کے اندر ہے اور اس کے کنارے کی طرف چل رہا ہے تو وہ جب تک کہ دائرہ سے باہر نہیں ہو جا تا شدائد کے حلقہ کے اندر ہی سمجھا جائے گا۔لیکن بایں ہمہ مسرت و خوشی کے مقام سے بھی وہ قریب ہوتا جائے گا۔ایسی حالت میں کیا کوئی شخص یہ کہ سکتا ہے کہ آرام و خوشی کا مقام اس شخص کے لئے سختی اور شدائد کا مقام ہے؟ ہرگز نہیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے وصال محبوب کی آمد شدائد کا پہلو ( یا بقول ڈاکٹر صاحب نعوذ باللہ خوست کا پہلو ) ہرگز نہیں رکھتی تھی۔بلکہ شدائد ومصیبت کا پہلوصرف ان لوگوں کے لئے تھا جن کو آپ اپنے پیچھے چھوڑ رہے تھے۔یعنی دنیا و اہل دنیا کے لئے۔اور یہی میں نے لکھا تھا جسے ڈاکٹر صاحب نے بگاڑ کر کچھ کا کچھ بنا دیا ہے۔