مضامین بشیر (جلد 1) — Page 62
مضامین بشیر ۶۲ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَالحَدِيث بَعْدَهَا ۳ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز سے پہلے سونے کو نا پسند فرماتے تھے۔اور اسی طرح عشاء کے بعد بات چیت کرنے کو بھی اچھا نہیں سمجھتے تھے۔اس حدیث میں ابو برزہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ایک خیال اپنے الفاظ میں منسوب کیا ہے۔اور امام بخاری صاحب نے اسے بلا جرح اپنی صحیح بخاری میں درج فرمالیا ہے۔اور ڈاکٹر صاحب کی طرح یہ اعتراض نہیں کیا کہ :- ابو برزہ اپنا خیال پیش کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے قبل سونے کو نا پسند فرماتے تھے مگر یہ انہیں کس طرح پتہ لگا کہ آنحضرت کا ایسا خیال تھا۔کیا آپ نے کبھی فرمایا تھا کہ عشاء کی نماز سے قبل سونا مکروہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔کیا یہ ممکن نہیں کہ ابو برزہ نے غلطی سے اپنے خیالات پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خیالات کو قیاس کر لیا ہے۔“ سی ڈاکٹر صاحب موصوف کے اپنے الفاظ ہیں جن میں سوائے ناموں کی تبدیلی کے میں نے کوئی تصرف نہیں کیا تا کہ اور نہیں تو کم از کم اپنے الفاظ کا لحاظ کر کے ہی ڈاکٹر صاحب میرے معاملہ میں کچھ در گذر سے کام لیں۔دوسرا جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ خود اسی روایت کے اندر یہ ذکر صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فلاں موقع پر منگل کے دن کے متعلق اپنے خیال کا اظہار فرمایا تھا۔مگر افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے غصہ کے جوش میں اس کی طرف توجہ نہیں کی۔میں ڈاکٹر صاحب سے با ادب عرض کرتا ہوں کہ وہ اس روایت کے آخری حصہ کا دوبارہ مطالعہ فرمائیں جہاں ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم کی ولادت کا ذکر ہے۔اور پھر بتائیں کہ کیا اس جگہ صاف الفاظ میں یہ لکھا ہوا موجود نہیں کہ اس وقت حضرت صاحب نے دعا فرمائی تھی کہ خدا اسے منگل کے خراب اثر سے محفوظ رکھے۔اور پھر انصاف سے کہیں کہ اگر بالفرض کوئی اور واقع نہ بھی ہو۔تو کیا صرف یہی واقعہ اس بات کے سمجھنے کے لئے کافی نہیں تھا۔کہ حضرت صاحب منگل کے دن کو مقابلہ اچھا نہیں سمجھتے تھے۔اندریں حالات ڈاکٹر صاحب کا یہ فرمانا کہ والدہ صاحبہ کو کیسے معلوم ہوا۔کہ حضرت صاحب کا یہ خیال تھا کہ منگل کا دن اچھا نہیں ہے اور یہ کہ کیوں نہ یہ سمجھ لیا جاوے کہ والدہ صاحبہ نے خود بخود ہی ایسا سمجھ لیا ہو گا۔ایک لایعنی بات ہے جس کی طرف کوئی فہمیدہ شخص توجہ نہیں کر سکتا۔دوسرا اعتراض ڈاکٹر صاحب موصوف کا یہ ہے کہ اس روایت کے اندر جو یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت صاحب نے دعا فرمائی تھی کہ مبارکہ بیگم کی ولادت منگل کے دن نہ ہو تو اس بات کا کیا ثبوت