مضامین بشیر (جلد 1) — Page 61
۶۱ مضامین بشیر طریق اختیا ر کیا ہے یا یہ کہ ان کا یہ خیال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کسی ایک قول پر مبنی نہیں۔بلکہ یا تو متعدد مرتبہ کی گفتگو پر مبنی ہے اور یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ایک بہت لمبا عرصہ رہنے کے نتیجہ میں اُن کی طبیعت نے آپ کے متعلق ایک اثر قبول کیا تھا جسے انہوں نے اپنے الفاظ میں بیان کر دیا ہے جیسا کہ مثلاً حدیث میں حضرت عائشہ کا قول آتا ہے کہ كان يحب التيمن في سائر امره لا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر بات میں دائیں طرف سے ابتداء کرنے کو پسند فرماتے تھے۔اب کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ چونکہ حضرت عائشہ نے اس جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ بیان نہیں کئے بلکہ صرف اپنے الفاظ میں آپ کی طرف ایک خیال منسوب کر دیا ہے۔اس لئے یہ روایت قابل قبول نہیں؟ ہر گز نہیں اگر ڈاکٹر صاحب غور فرمائیں تو ان کو معلوم ہو کہ بیوی کی طرف سے اس قسم کی روایت جس کا نام روایت بالمعنی رکھا جاتا ہے قابل اعتراض نہیں بلکہ بعض اوقات عام لفظی روایتوں کی نسبت بھی یہ روایت زیادہ پختہ اور قابل اعتماد سمجھی جانی چاہیئے۔کیونکہ جہاں لفظی روایت کسی ایک وقت کے قول پر مبنی ہوتی ہے وہاں اس قسم کی معنوی روایت جو بیوی یا کسی ایسے ہی قریبی کی طرف سے مروی ہو متعدد مرتبہ کی گفتگو یا لمبے عرصہ کی صحبت کے اثر کا نتیجہ ہوتی ہے۔اور ان دونوں میں فرق ظاہر ہے۔حضرت عائشہ والی روایت کو ہی دیکھ لو۔اگر حضرت عائشہ صرف یہ فرما دیتیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فلاں موقع پر فرمایا تھا کہ ہر بات میں دائیں سے ابتداء کرنی چاہیئے تو ان کی اس روایت کو ہرگز وہ پختگی حاصل نہ ہوتی جو موجودہ صورت میں اسے حاصل ہے کیونکہ موجودہ صورت میں انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی ایک قول نقل نہیں کیا۔بلکہ متعدد مرتبہ کی گفتگو یا ایک لمبی صحبت کے اثر کے نتیجہ کو بیان کیا ہے۔اور اگر ڈاکٹر صاحب کو یہ خیال ہو کہ یہ روایت چونکہ حضرت عائشہ نے کی ہے اس لئے وہ جرح سے بالا ہے۔کیونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی تھیں جنہوں نے کئی سیال آپ کی صحبت میں گزارے اور جو دن رات اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے کھاتے پیتے آپ کو دیکھتی تھیں مگر کسی دوسرے راوی کی طرف سے اس قسم کی روایت بالمعنی قابل قبول نہیں سمجھی جاسکتی تو اس کے متعلق میں بڑے ادب سے یہ عرض کروں گا کہ جس روایت پر ڈاکٹر صاحب نے جرح فرمائی ہے وہ بھی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیوی کی ہی ہے۔اور بیوی بھی وہ جس نے حضرت عائشہ کی نسبت بہت زیادہ عرصہ اپنے خاوند کے ساتھ گذارا ہے۔لیکن بایں ہمہ میں ڈاکٹر صاحب کی تسلی کے لئے ایک اور حدیث پیش کرتا ہوں۔ایک صحابی ابو برزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ كَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ