مضامین بشیر (جلد 1) — Page 668
مضامین بشیر ۶۶۸ سے پیدا ہونے والی چیز پر بھی اثر پڑے گا۔ان خیالات کے بعد میں یہ دعا کرتا ہوا گھر کو لوٹا کہ اے خدا تو ہم پر اپنا فضل فرما کہ ہم بحیثیت مجموعی بھی امۃ نہیں۔یعنی دوسری قوموں کے لئے اعلیٰ نمونہ ہوں اور پھر ہمارے اندر بھی ایک امۃ کہلانے والا حصہ پیدا ہوتا رہے جو گویا ہمارا قومی جو ہر ہو۔جن کی زندگیاں کلیتہ دین کی خدمت کے لئے وقف ہوں اور بالآخر ہمارے اندر وہ افراد بھی پیدا ہوتے رہیں جوا کیلے اپنی ذات میں امۃ کہلانے کا حق رکھیں۔جس طرح خدا کی نظر میں حضرت ابرا ہیم امة سمجھے گئے۔امین یارب العالمین۔( مطبوعه الفضل ۲۰ دسمبر ۱۹۴۵ء)