مضامین بشیر (جلد 1) — Page 667
۶۶۷ مضامین بشیر قرآن شریف نے افراد کے امۃ بننے کا گر بھی بتا دیا ہے۔کہ انہیں اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرنے چاہئیں کہ اول وہ قانت ہوں یعنی خدا کے فرمانبردار اور دوم وہ حنیف ہوں یعنی ہر وقت خدا کی طرف جھکے رہنے والے اور سوم وہ مشرک نہ ہوں۔یعنی ہر نوع کے شرک ( خفی و جلی ) سے گلی طور پر مجتنب رہیں۔انہی اوصاف نے حضرت ابراہیم کو امۃ بنایا۔اور انہی اوصاف کو اپنے اندر پیدا کر کے اب ہم لوگ امۃ بن سکتے ہیں۔مگر اس جگہ یہ خیال رہے کہ یہاں لم یک من المشرکین سے عام شرک مراد نہیں ہے اور نہ ایک عالی شان نبی کے لئے عام شرک کی نفی کوئی قابل ذکر چیز ہے۔بلکہ اس سے ہر قسم کے ظاہری اور باطنی شرک سے کامل اجتناب مراد ہے جو صرف خواص کو ہی حاصل ہوتا ہے۔قرآن شریف نے جو مبلغین کی جماعت کو امۃ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔اس کے بھی تین اوصاف ضروری ہیں۔اول يدعون الى الخیر یعنی وہ منکرین کو حق و صداقت کی طرف بلانے ولے ہوں۔اور اس راستہ پر صبر و استقلال کے ساتھ قائم رہیں۔جیسا کہ یدعون کے صیغہ میں اشارہ ہے دوم یا مرون بالمعروف یعنی جو لوگ ان کی دعوت کو قبول کریں۔انہیں وہ یونہی نہ چھوڑ دیں بلکہ ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام کریں۔اور جس دینِ حق کو انہوں نے قبول کیا ہے۔اس کی تعلیم پر انہیں کار بند کرائیں۔یعنی پہلے تعلیم سکھائیں۔اور پھر اس تعلیم پر عمل کرا ئیں۔اور سوم ينهون عن المنکر یعنی تعلیم سکھا کر اور اس پر عمل کروا کے بھی وہ مطمئن نہ ہو جائیں۔بلکہ اس بات کی نگرانی رکھیں کہ یہ لوگ پھر عمل باطل کی طرف نہ لوٹ جائیں۔اور یہ سلسلہ نسلاً بعد نسل چلتا چلا جائے۔پھر عجیب بات یہ ہے کہ قرآن شریف نے اس آیت میں ولتــكــن فـيــكــم امۃ نہیں فرمایا بلکہ ولتكن منكم امة فرمایا ہے۔یعنی فیکم کی جگہ جو اس جگہ بظا ہر زیادہ موزوں نظر آتا ہے۔منکم کا لفظ رکھا ہے۔اس میں یہ لطیف اشارہ مقصود ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیئے کہ کسی وقت اتفاقی طور پر مسلمانوں میں مبلغین کی کوئی پارٹی پائی جائے اور بس بلکہ اس تعلق میں ان کے اندر منکم کا نظارہ نظر آنا چاہیئے۔یعنی یہ پارٹی اسلامی ماحول میں تربیت یافتہ لوگوں کی ہونی چاہیئے اور ہر زمانہ میں پیدا ہوتی رہنی چاہیئے۔گویا جس طرح زمین میں سے فصل اگتی ہے اسی طرح مسلمانوں کی جماعت میں سے ایک مبلغین کی امۃ “ ہر زمانہ میں پیدا ہوتی رہے۔اور منکم کے لفظ میں یہ اشارہ ہے کہ جس چیز سے ایک اعلیٰ چیز نے پیدا ہونا ہوا سے خود بھی اچھی حالت میں رکھنا چاہیئے کیونکہ صرف اچھی زمین ہی اچھی فصل پیدا کر سکتی ہے۔پس ضروری ہے کہ عام جماعت کی حالت بھی اچھی رکھی جائے ورنہ اس