مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 663 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 663

۶۶۳ حضرت ام المومنین کے خط کا ایک اور نمونہ مضامین بشیر چند دن ہوئے میں نے یادگار کی نیت سے حضرت ام المومنین اطال اللہ ظلہا کے خط کا نمونہ الفضل میں شائع کرایا تھا۔اس کے بعد مجھے ایک زیادہ اہم امر کے تعلق میں بھی حضرت اماں جان کے خط کا نمونہ مل گیا ہے، جو درج ذیل کرتا ہوں۔اس کے مختصر حالات یہ ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوئی تو حضور نے اپنے پیچھے تین انگوٹھیاں چھوڑی تھیں۔ایک وہ قدیم انگوٹھی تھی جو ہمارے دادا صاحب کی وفات کے بعد جو ۶ ۷ ۱۸ ء میں ہوئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تیار کروائی تھی۔جس میں الیس الله بکاف عبده ۳۳ ( یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے ) والا مشہور الہام درج ہے۔دوسری انگوٹھی وہ تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے غالباً ۱۸۹۲ء میں یا اس کے قریب تیار کروائی تھی۔جس میں حضور کا یہ الہام جو غالبا ۱۸۸۴ء کے قریب کا ہے درج ہے کہ : - " اذْكُرُ نِعْمَتِيَ الَّتِى اَنْعَمُتُ عَلَيْكَ ۳۵ غَرَسُتُ لَكَ بِيَدِى رَحْمَتِي وَقُدْرَتِي ٣٦ یعنی میری اس نعمت کو یاد کر جو میں نے تجھ پر کی ہے۔میں نے تیرے لئے اپنے ہاتھ سے اپنی رحمت اور قدرت کا درخت لگایا ہے۔“ اور تیسری انگوٹھی وہ تھی جو وفات سے کچھ عرصہ قبل یعنی غالباً ۱۹۰۶ ء میں ایک سیالکوٹ کے دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے تیار کروائی تھی اور حضور کی منشاء کے مطابق اس میں " مولا بس “ کے الفاظ کندہ کئے تھے۔الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت ام المومنین اطال اللہ بقاء ھانے ارادہ فرمایا کہ یہ تین انگوٹھیاں ہم تین بھائیوں میں تقسیم فرماد ہیں۔اور تجویز یہ ہوئی کہ تقسیم کے لئے قرعہ ڈال لیا جائے۔چنانچہ تین علیحدہ علیحدہ پرزوں پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے ( جو غالباً اس وقت تک ابھی خلیفہ نہیں ہوئے تھے ) اپنے ہاتھ سے ان تینوں انگوٹھیوں کی عبارت لکھی اور پھر حضرت اماں جان نے دعا کرتے ہوئے قرعہ اٹھایا تو اليس الله بکاف عبده والی انگوٹھی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے حصہ میں آئی اور اذكر نعمتى التي انعمت