مضامین بشیر (جلد 1) — Page 657
مضامین بشیر بے بسوں کی امداد کو نہ بھول جانا۔“ اب گویا قرآنی آیات اور طعام في يوم ذى مسبغة۔يتيماً ذا مقربة او مسكينا ذا متربة کے پورے معنی یہ ہوئے کہ بھوک اور تنگی کے ایام میں کھانا کھلاؤ۔یتیموں کو جو تمہارے قریبی ہیں اور کھانا کھلاؤ مسکینوں کو جو اپنی پستی میں خاک افتادہ ہیں۔مگر یہ کھانا کھلا نا اس طرح نہیں ہونا چاہیئے جس طرح ایک فرعون فطرت انسان اپنے دروازہ پر آنے والے سوالیوں کو کچھ دے دیتا ہے۔اور خود اپنے ناک پر رومال رکھتے ہوئے ان سے پرے پرے ہٹتا جاتا ہے۔یا جس طرح ایک شخص کسی کتے کو کوئی روٹی کا ٹکڑا ڈال دیتا ہے اور ساتھ ہی اسے دھتکارتا بھی جاتا ہے بلکہ یہ کھانا کھلانا اس طرح ہونا چاہیئے جس طرح دو پودوں کی شاخیں پیوند کے ذریعہ آپس میں ملا دی جاتی ہیں۔یتیم کو اس لئے کہ وہ ذا مقربۃ ہے اور ہمارے ہی جسم کا ایک حصہ بے سہارا ہو کر کٹ چکا ہے۔اور مسکین کو اس لئے کہ وہ ذا متربة ہے اور جب کسی قوم کا کوئی حصہ اتنا گر چکا ہو کہ گویا خاک میں لت پت ہو رہا ہے۔تو اسے محض روٹی دے دینا اور اسے مٹی میں سے اٹھانے کا انتظام نہ کرنا گویا بنی نوع انسان کے ایک عضو کو کاٹ دینا ہے جو بالآخر ساری قوم کی تباہی کا موجب بن جاتا ہے۔ہندوؤں نے کاسٹ سسٹم اور ذات پات کے ظالمانہ اصول مقرر کر کے اپنی قوم کو تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیا۔حضرت عیسٹی نے بچوں کی روٹی کو کتوں کے آگے ڈالنے سے انکار کیا اور ان کے مغربی نام لیوؤں نے تمام مشرقی اقوام کو غلاموں سے بدتر جانا اور مٹی میں گرے ہوئے لوگوں کو مٹی سے اٹھانے کی بجائے اور بھی مٹی میں دبانا چاہا مگر صرف اسلام کا نبی ہی وہ نبی ہے اور صرف اسلام کی کتاب ہی وہ کتاب ہے جس نے تمام انسانوں کو انسان سمجھا اور یہ زریں ہدایت جاری کی کہ اگر ترقی کی گھاٹی پر چڑھنے کے آرزومند ہو تو اپنے ساتھ ان تمام گرے ہوئے لوگوں کو بھی اٹھانا ہو گا جو تمہارے پہلو میں خاک افتادہ پڑے ہیں۔اللهم صل على محمد وعلى آل محمد و بارک وسلم۔الغرض اطعام کے لفظ کے ان معنوں نے جو جوڑ ملانے اور پیوند باندھنے سے تعلق رکھتے ہیں اور جو لغت عرب سے ثابت ہیں۔نہ صرف قرآن شریف کا کمال ہی ظاہر کیا ہے کہ کس طرح ایک ہی لفظ کے استعمال سے متعد داور وسیع معنی پیدا کر لئے جاتے ہیں۔بلکہ اسلامی تعلیم کی ایک دلکش خوبی سے بھی نقاب کشائی کی ہے کہ اسلام صرف یہی نہیں چاہتا کہ غریبوں کو روٹی مل جائے اور بس۔بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ خاک افتادہ لوگوں کو مٹی میں سے اٹھا کر ترقی یافتہ لوگوں کے پہلو بہ پہلو کھڑا کر دیا جائے اور آیت میں یہ بھی اشارہ ہے کہ یہ کام خود ترقی یافتہ لوگوں کے ہاتھ سے ہونا چاہیئے۔کیونکہ اس