مضامین بشیر (جلد 1) — Page 656
مضامین بشیر میں اطعام کا لفظ دیکھا چاہیئے۔کیونکہ ممکن ہے کہ اسی لفظ کے مفہوم میں ذا متربة کی حالت کا بھی کوئی علاج موجود ہو۔اور جب میں نے لغت کو دیکھا تو میری روح اپنے حکیم وعلیم خدا کے سامنے بے اختیار ہو کر سجدہ میں گرگئی کیونکہ مجھے معلوم ہوا کہ عربی زبان میں اطعام کے معنی صرف کھانا کھلانے کے ہی نہیں ہیں بلکہ دو پودوں کو آپس میں ملا کر پیوند کے ذریعہ باندھ دینے کے بھی ہیں۔چنانچہ مسجد میں ( اسی وقت سفر کی حالت میں یہی چھوٹی سی لغت میرے پاس تھی ) اطعم الغصن کے یہ معنی لکھے تھے کہ : ” وصــل بــه غصــنــا مــن غيــر شجره ليكون من جنس الشجرة الماخوذة منها ذالك الغصن يعني اطعام کے یہ معنی بھی ہوتے ہیں کہ ایک پودے کی شاخ کو دوسرے پودے کیسا تھ اس طرح جوڑ دیا جائے کہ موخر الذکر پورا مقدم الذکر پودے کے ساتھ پیوند ہوکر اس کا ہم جنس ہو جائے۔اس وقت مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ مبارک ارشاد یاد آیا جو حضور نے ایک دفعہ میاں عبداللہ صاحب سنوری مرحوم کو مخاطب کر کے فرمایا تھا اور وہ سیرۃ المہدی میں چھپ چکا ہے کہ : میاں عبداللہ ! جہاں قرآن شریف میں کوئی عبارت کھٹکے اور کوئی اعتراض پیدا ہوتا نظر آئے تو سمجھو کہ وہیں یا اس کے آس پاس کوئی خاص علمی یا روحانی خزانہ مخفی ہے۔‘۳۰ میں نے درود بھیجا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جن کے ذریعہ اس زمانہ میں قرآنی علوم کا ظہور ہوا اور میں نے درود بھیجا آپ کے آقا اور مقتداء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر جن کے ذریعہ ہمیں ایسی مبارک کتاب حاصل ہوئی۔جس میں بنی نوع انسان کے پست حال طبقہ کی صرف مالی بہبود کا ہی سامان موجود نہیں بلکہ جذبات کے التزام اور ان کی گری ہوئی ذہنیتوں کے بلند کرنے کا بھی پورا پورا انتظام موجود ہے۔اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ قرآن اس خدا کا کلام ہے جو اسی طرح غریبوں کا بھی خدا ہے جس طرح کہ وہ امیروں کا خدا ہے اور جب کہ قرآنی وحی کا منزل علیہ وہ پاک انسان ہے جس کی زبان پر اس دنیا میں آخری الفاظ یہ تھے کہ : الصلوة و ما ملكت ايمانكما و یعنی دیکھنا میرے بعد ( خدا کے حق ) نماز کو اور ( مخلوق کے حق ) غلاموں اور