مضامین بشیر (جلد 1) — Page 644
مضامین بشیر ۶۴۴ ہماری قدسیہ کا انتقال اور احباب و اغیار کے جذبات میری نواسی قدسیہ مرحومہ کی ناگہانی وفات پر جو ۲۳ ستمبر ۱۹۴۵ء کی سہ پہر کو ڈلہوزی میں واقع ہوئی۔دور ونزدیک کے اصحاب کی طرف سے اس کثرت کے ساتھ ہمدردی کے تار اور خطوط وصول ہوئے ہیں کہ میں رسمی طور پر نہیں کہتا بلکہ حقیقہ ان کا فرداً فرداً جواب دینا مشکل ہے۔اور چونکہ مجھے اس موقع پر بعض اور خیالات کا اظہار کرنا بھی مقصود ہے۔اس لئے اس مختصر نوٹ کے ذریعہ تمام ان بھائیوں اور بہنوں کا دلی شکر یہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس حادثہ موطہ میں ہمارے ساتھ ہمدردی کا اظہار فرمایا۔یا اگر خط وغیرہ کے ذریعہ لفظا اظہار نہیں کر سکے تو کم از کم دل میں مرحومہ اور اس کے پسماندگان کے لئے نیک جذبات کو جگہ دی۔فجزاهم الله احسن الجزا في الدنيا والاخرة اسلام اور احمدیت کی نعمتوں میں سے یہ ایک بڑی بھاری نعمت ہے کہ ہم لوگ خدا کے فضل ورحمت سے ایک دوسرے کے درد کو حقیقہ اپنا درد خیال کرتے ہیں۔اور ایک بھائی کی تکلیف کو دیکھ کر ہمارے دل اس طرح محبت اور ہمدردی کے جوش میں اس کی طرف لپکتے ہیں کہ قرآن پاک کے ان الفاظ کی عملی تفسیر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے کہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُو بِكُمْ فَا صُبَحْتُم بِنِعْمَتِةٍ إِخْوَانًا ۲۳ یعنی اے مومنو! اتحاد اور محبت و موالات کی قدر کو پہچانو اور خدا کی رشی کو سب کے سب اکٹھے ہو کر مضبوطی کے ساتھ پکڑے رکھو اور انتشار اور تفرقہ سے بچو۔اور خدا کی اس نعمت کو کبھی مت بھولو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔مگر خدا تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں محبت پیدا کردی۔اور تم اس کی دی ہوئی نعمت (اسلام واحمدیت ) کے ذریعہ بھائی بھائی بن گئے۔“ اللہ اللہ ! کیا ہی روح افزا نظارہ ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں اور مختلف قوموں میں سینکڑوں ہزاروں میل کے چکر میں پھیلے ہوئے لوگ بستے ہیں۔کوئی گورا ہے کوئی کالا ہے۔کوئی امیر ہے کوئی