مضامین بشیر (جلد 1) — Page 645
۶۴۵ مضامین بشیر غریب ہے۔کوئی تندرست ہے کوئی بیمار ہے کوئی عالم ہے کوئی ظاہری علم سے خالی ہے مگر یہ سب لوگ محبت واخوت کی ایسی پختہ زنجیر میں بندھے ہوئے ہیں کہ اگر ایک شخص کو کوئی تکلیف پہونچتی ہے تو گویا یہ سارا عالم درد سے تلملا اٹھتا ہے۔پس میں دوستوں کی اس مخلصانہ محبت کا سوائے اس کے اور کیا بدلہ پیش کروں کہ خدا یا تو ان سب لوگوں کو جزائے خیر دے جنہوں نے اس صدمہ میں ہمارے ساتھ ہمدردی کے جذبات کو جگہ دی۔اور جس طرح انہوں نے ہماری تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھا۔تو ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھ ( حدیث سے ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بعض بندوں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتا ہے ) اور ان کا حافظ و ناصر ہو۔اور ان کے لئے اس شراب محبت کے پیمانہ کو اور بھی وسیع کر دے۔جس سے متاثر ہو کر انہوں نے اپنے بعض بھائیوں کے دکھ میں ان کی طرف اور ہمدردی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔آمین یاراحم الراحمين واقعہ یوں ہوا کہ مورخہ ۲۳ ستمبر کی صبح کو جب کہ ڈلہوزی میں کئی دن کی مسلسل بارش کے بعد ذرا دھوپ نکلی تو میری لڑکی امتہ السلام بیگم سلمہا اپنے شوہر عزیزم مرزا رشید احمد صاحب کے ساتھ بچوں کو سیر کرانے کی غرض سے ڈلہوزی کے قریب ایک پہاڑی ویان گنڈ پر گئی۔جہاں اور بھی کئی لوگ جو سابقہ بارش سے اکتائے ہوئے تھے ٹرپ کرنے گئے ہوئے تھے۔ابھی عزیزہ امتہ السلام بیگم اور ان کے بچے وہیں تھے کہ پھر بارش شروع ہوگئی اور یہ لوگ جلدی جلدی گھر پہو نچنے کی غرض سے واپس روانہ ہو گئے۔جب قریباً ڈیڑھ میل کی اترائی اتر کر لکڑ منڈی میں پہنچے جہاں ریاست چمبہ کے محکمہ جنگلات کی طرف سے مسافروں کے لئے ایک شیڈ سا بنا ہوا ہے تو اس شیڈ کے اندر جا کر بارش کے تھمنے کا انتظار کرنے لگے۔اس شیڈ میں (جس کی چھت نوک دار صورت کی تھی اور اسے خلاف اصول بجلی کے امکانی حادثہ کے پیش نظر ارتھ بھی نہیں کیا گیا تھا ) اس وقت اور بھی کئی لوگ اسی غرض سے جمع تھے۔ابھی انہیں اس شیڈ کے اندر گئے چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ اس شیڈ کے ایک کو نہ کے کھمبا پر بجلی گری اور ایک سکھ اور ایک ہندو لیڈی ڈاکٹر اور ایک ہندولڑکی وغیرہ کے جسموں کو پوری طرح جھلتے ہوئے انہیں بیہوش کر کے نیچے گرا دیا اور بجلی کے منتقل شدہ اثر کے ماتحت شیڈ کے اندر کے دوسرے اکثر لوگ بھی بیہوش ہو کر زمین پر گر گئے۔انہی مؤخر الذکر لوگوں میں قدسیہ مرحومہ بھی تھی۔ان میں سے باقی لوگ تو ایک دومنٹ کی بیہوشی کے بعد سنبھل کر کھڑے ہو گئے۔مگر قدسیہ کا دل چونکہ نہایت کمزور تھا۔وہ اس فوری صدمہ کو برداشت نہ کر سکی۔اور اس حادثہ کے نتیجہ میں فوت ہوگئی۔فــان اللـه وانــا الـيـه راجعون۔جو تین چار اشخاص بجلی کی براہ راست ضرب سے مجروح ہوئے تھے۔ان میں سے بعض چند دن کے علاج کے بعد صحت یاب ہو گئے اور بعض ابھی تک ڈلہوزی میں زیر علاج ہیں۔