مضامین بشیر (جلد 1) — Page 632
مضامین بشیر ۶۳۲ جو مسیح موعود کا زمانہ ہے پہونچا دیا۔۔۔والمسجد الاقـــطـــــى هو المسجد الذي بناه المسيح الموعود في القاديان سمي اقصى لعبده من زمان النبوة 19 یعنی اس آیت میں جو مسجد اقصیٰ کا لفظ ہے اس سے وہ مسجد مراد ہے جو مسیح موعود نے قادیان میں تعمیر کی ہے۔اس کا نام اقصیٰ زمانہ نبوی کے بعد کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔اس بیان میں جو ایک اہم آیت قرآنی کی تفسیر پر مبنی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی بناء کر دہ مسجد مبارک کو ہی معنوی اور زمانی رنگ میں وہ مسجد اقصی قرار دیتے ہیں۔جس کا ذکر قرآن شریف میں آتا ہے۔اور صراحت فرماتے ہیں کہ اس سے وہ مسجد مراد ہے جو میں نے خود قادیان میں تعمیر کرائی ہے اور یہ ایک بہت بڑا شرف ہے جو مسجد مبارک کو حاصل ہوا ہے۔مسجد مبارک کے برکات الغرض یہ مبارک مسجد بہت سی برکات کا مجموعہ ہے۔کیونکہ وہ (۱) خدا کے علم سے برکت دہندہ ہے۔یعنی روحانی مقناطیس ہے جس سے چھوتی ہے اسے برکتوں سے بھر دیتی ہے۔(۲) وہ خدا کی طرف سے برکت یافتہ ہے یعنی خدا نے اسے ہر نوع کی برکتوں کا مجموعہ بنا دیا ہے۔(۳) اس میں ہر قسم کے کام ہونے مقدر ہیں فرضی بھی نفلی بھی انفرادی بھی قومی بھی اخلاقی بھی روحانی بھی تنظیمی بھی تربیتی بھی وغیرہ وغیرہ (۴) وہ انسان کے لئے امن و عافیت کا حصار ہے جو اُسے ہر قسم کے خطروں سے محفوظ کرتی ہے۔(۵) وہ ہمیشہ ذکر الہی سے گونجتی رہے گی۔(1) اس پر خدائی فضلوں کی ایسی بارش ہورہی ہے اور ہوتی رہے گی کہ جسے روکنا کسی انسان کی طاقت میں نہیں۔( ۷ ) وہ ہمیشہ سرسبز و شاداب رہے گی اور خزاں کی باد سموم سے محفوظ (۸) اس کی برکات مصلح موعود کے ساتھ اور مصلح موعود کی برکات اس کے ساتھ باہم پیوست ہیں۔(۹) وہ اس خدائی اعلان کی علمبر دار ہے کہ اب دنیا میں ایک نیا نظام قائم ہونے والا ہے۔اور (۱۰) وہ دنیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج زمانی کا آخری نقطہ ہے۔یہ وہ عشرہ کا ملہ ہے جو قادیان کی اس چھوٹی سی مسجد کو حاصل ہے۔یعنی اپنے اندر یہ بھی منی عمارت اپنے اندر وہ عظیم الشان برقی طاقت چھپائے ہوئے ہے۔جس کے ذریعہ سے ساری دنیا کا متحد ہونا مقدر ہے۔اس کے اندر وہ بیٹریاں پوشیدہ ہیں جو سر جھکانے والوں کے لئے دن چڑھا دینے والی روشنی اور سرکشی کرنے والوں کے لئے بھسم کرنے والی آگ کا خزانہ ہیں۔اب یہ دنیا کا کام ہے کہ وہ اس کی روشنی کو قبول کرتی ہے یا اس کی آگ کو۔