مضامین بشیر (جلد 1) — Page 631
۶۳۱ مضامین بشیر اعلان کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کاغذ چنا وہ بھی سبز رنگ کا تھا۔جس نے اس پیشگوئی کو لا راد لفضله والے سبز رنگ کے الہام کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔مسجد مبارک کی ایک اور خصوصیت پھر اس مسجد کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے اندر یعنی اس کے ملحقہ حجرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو وہ عظیم الشان کشف ہوا تھا جس میں آپ نے یہ نظارہ دیکھا تھا کہ خدا تعالیٰ نے بعض قضاء وقدر کے احکام پر دستخط کرتے ہوئے اپنے قلم کو چھڑ کا ہے۔اور اس چھڑ کنے کے نتیجہ میں خدائی روشنائی کے بعض چھینٹے آپ کے کرتے پر بھی گر گئے ہیں۔۱۸ اور یہ وہ با برکت کرتہ ہے جسے جماعت احمدیہ کے ہزاروں دوست دیکھ چکے ہیں اور اب وہ حضرت میاں عبداللہ صاحب سنوری کے کفن کا حصہ بن کر مقبرہ بہشتی کی پاک زمین میں دفن ہے۔اس کشف میں یہ اشارہ تھا کہ اب خدائے قدیر اپنی غیر محدود طاقتوں کے ذریعہ ایک نیا نظام قائم کرنے والا ہے۔جس کی ترقی ظاہری اسباب کے ماتحت نہیں ہوگی۔بلکہ کرتہ کے چھینٹوں کی طرح خدا کی ازلی طاقت کے ہاتھوں سے خارق عادت رنگ میں ہوگی اور روشنائی کے سرخ ہونے میں یہ اشارہ ہے کہ جس طرح عموماً سرخ روشنائی سرکاری دستاویزات کی اصلاح اور درستی کے لئے استعمال کی جاتی ہے ، اسی طرح اب خدا وند عالم نے دُنیا کے موجودہ نظام میں اصلاحی رد و بدل کا ارادہ فرمایا ہے۔اور اس جدید نظام کے لئے قضا و قدر کے دفتر سے احکام جاری کر دیئے گئے ہیں۔اور ممکن ہے کہ سُرخ رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض قہری پیشگوئیوں کی طرف بھی اشارہ ہو۔مسجد مبارک کے متعلق ایک لطیف انکشاف بالآخر اس مسجد کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اور لطیف انکشاف بھی فرمایا ہے۔اس سے اس مسجد کا مقام بہت زیادہ بلند ہو جاتا ہے۔فرماتے ہیں : - قرآن شریف کی یہ آیت کہ سُبْحَانَ الَّذِى اسرای معرج مکانی اور زمانی دونوں پر مشتمل ہے اور بغیر اس کے معراج ناقص رہتا ہے۔پس جیسا کہ سیر مکانی کے لحاظ سے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد الحرام سے بیت المقدس تک پہونچا دیا تھا۔ایسا ہی سیر زمانی کے لحاظ سے آنجناب کو شوکتِ اسلام کے زمانہ سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا برکاتِ اسلامی کے زمانہ تک