مضامین بشیر (جلد 1) — Page 628
مضامین بشیر ۶۲۸ جائے گا ۳ ( یہ ترجمہ بھی حضرت مسیح موعود کا کیا ہوا ہے ) اس الہام میں اس مسجد کی تین خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔اوّل: اس کا مبارک (‘ کی زیر سے ) ہونا۔یعنی یہ مسجد لوگوں کو برکت دینے والی ہے۔رجو شخص بھی اس کے اندر روحانی طور پر داخل ہوگا۔وہ خدا کی خاص برکتوں سے حصہ پائے گا۔دوم: اس کا مبارک (‘ کی زبر سے ) ہونا۔یعنی یہ مسجد خدا تعالیٰ کی طرف سے برکت وو یافتہ ہے۔اور خدا نے اس کے اندر کئی قسم کی برکتیں رکھی ہوئی ہیں۔سوم : خدا تعالیٰ ایسا تصرف فرمائے گا کہ اس مسجد میں ہر قسم کے با برکت کام ہوتے رہیں گے۔یہ تین علیحدہ علیحدہ وعدے ہیں جو اپنے اندر عظیم الشان رحمت اور قدرت کا نشان رکھتے ہیں۔اور انشاء اللہ قیامت تک ظہور پذیر ہوتے رہیں گے۔بعض لوگ اس الہام کے آخری حصہ کو یوں پڑھتے ہیں کہ کل امر مبارک يُجْعَلُ فيه جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر امر جو اس مسجد میں کیا جائے گا۔وہ با برکت ہو جائے گا۔مگر یہ درست نہیں ہے۔کیونکہ اول تو یہ معنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کئے ہوئے معنوں کے خلاف ہیں جیسا کہ اوپر کے حوالہ سے ظاہر ہے۔دوسرے یہ معنی کرنے سے اس آخری فقرہ میں کوئی جدت نہیں رہتی بلکہ محض پہلے فقرہ کے معنوں کی تکرار ہو جاتی ہے۔کیونکہ جب مبارک (رکی زیر سے ) کہہ کر برکت دینی والی صفت کا مفہوم شروع میں ہی ادا کر دیا گیا ہے۔تو یہ فقرہ کہ اس مسجد کے اندر جو کام ہو گا وہ بابرکت ہو جائے گا محض ایک تکرار کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔جو خدائی کلام کی فصاحت سے بعید ہے۔پس حق یہی ہے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ترجمہ سے ظاہر ہے اس الہام کا آخری فقرہ اسی طرح ہے۔جس طرح میں نے شروع میں لکھا ہے۔یعنی کل امر مبارک يُجْعَلُ فيه اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اس مسجد میں ہر قسم کے بابرکت کام ہوتے رہیں گے۔اور یہ مفہوم مبارک والے مفہوم سے بالکل جدا اور نیا ہے۔یہ بات بھی بعض لوگوں کے دلوں میں کھٹک سکتی ہے۔کہ طبعی ترتیب کے لحاظ سے مبارک کا لفظ مبارک کے لفظ سے پہلے ہونا چاہیئے تھا۔کیونکہ طبعی طریق ہے کہ پہلے ایک چیز خود برکت پاتی ہے۔اور پھر دوسروں کو برکت دیتی ہے۔مگر یہ اعتراض کوتاہ نظری کا نتیجہ ہے کیونکہ صحیح فطری ترتیب وہی ہے جو خدا نے اپنے اس کلام میں رکھی ہے۔یعنی مبارک پہلے ہے اور مبارک بعد میں۔دراصل یہ انسانی فطرت کا ایک خاصہ ہے کہ جو بات اس کے ساتھ براہ راست اور زیادہ تعلق رکھتی ہے اس کے سننے کے لئے وہ زیادہ بے تاب اور زیادہ چشم براہ ہوتا ہے۔پس چونکہ مبارک کی صفت کا انسان کے ساتھ زیادہ تعلق ہے اس لئے کلام الہی نے اسے پہلے بیان کیا ہے۔اور اس طریق کے اختیار کرنے