مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 627 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 627

۶۲۷ مضامین بشیر اختلاف کی گنجائش بھی ہے۔کیونکہ گو عرف عام میں یہ مسجد مسجد اقصیٰ کہلاتی ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض تحریرات سے پتہ لگتا ہے کہ حضور نے یہ نام بھی مسجد مبارک پر ہی چسپاں کیا ہے۔لیکن بہر حال اس میں شبہ نہیں کہ یہ مسجد بھی جو مسجد اقصیٰ کہلاتی ہے۔ہماری مرکزی مسجد ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے اندر کثرت سے نمازیں پڑھتے رہے ہیں۔اور مرکزی جماعت کے جمعے بھی اس میں ہوتے رہے ہیں۔اور خطبہ الہامیہ والا عظیم الشان خطبہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مسجد میں دیا تھا۔یہ مسجد جیسا کہ اکثر احباب کو معلوم ہے ہمارے دادا حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی تعمیر کردہ ہے۔جو انہوں نے خاص قلبی تحریک کے ماتحت اپنی عمر کے آخری حصہ یعنی ۱۸۷۶ء میں تعمیر کرائی تھی۔چنانچہ ان کی خواہش کے مطابق ان کی قبر بھی اسی مسجد کے پاس بنی تھی۔جواب مسجد کے وسیع ہونے پر مسجد کے اندر آ گئی ہے۔احمدیت کی اوّل المساجد اس کے مقابل پر مسجد مبارک جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رہائشی مکان کے ساتھ ملحق ہے۔خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعمیر کردہ ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیشتر نمازیں ( بلکہ دعوی کے بعد تو غالباً پچانوے فیصدی نمازیں ) اسی مسجد میں ادا کی ہیں۔اور میں اس جگہ اسی مسجد کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔کیونکہ یہ مسجد احمدیت کی اوّل المساجد ہے۔جو خدا کے فضل سے حال ہی میں وسیع ہو کر پہلے سے دوگنی وسعت اختیار کر گئی ہے۔سو جاننا چاہیئے کہ اس مسجد کی ابتدائی تعمیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مبارک ہاتھوں سے ۱۳۰۰ ھ مطابق ۱۸۸۳ء میں ہوئی تھی۔جبکہ ہمارے دادا اور ہمارے تایا دونوں کی وفات ہو چکی تھی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی زندگی کے ایک نئے دور کا آغا ز فرمارہے تھے۔چنانچہ اس مسجد کی تعمیر کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو الہام اس مسجد کے متعلق ہوا وہ بھی ایک نئے دور کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔اور اس سے مسجد کی تعمیر کی تاریخ بھی نکلتی ہے۔وہ الہام یہ ہے۔مسجد مبارک کے متعلق پہلا الہام مُبَارِک وَمُبَارَكٌ وَكُلُّ أَمْرٍ مُّبَارَكِ يُجْعَلُ فِيْهِ - د یعنی یہ مسجد برکت دہندہ۔اور برکت یا فتہ ہے اور ہر ایک امر مبارک اس میں کیا