مضامین بشیر (جلد 1) — Page 629
۶۲۹ مضامین بشیر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے سراسر رحمت اور شفقت کا اظہار ہے۔کہ انسانی فطرت کو دیکھتے ہوئے زیادہ تسلی دینے والے کلام کو مقدم کر لیا ہے۔کسی بزرگ نے کیا خوب شعر کہا ہے کہ ابن مریم ہوا کرے کوئی میرے دُکھ کی دوا کرے کوئی پس گومنطقیانہ رنگ میں یہ سمجھا جائے کہ مبارک کی صفت پہلے ہونی چاہیئے تھی۔لیکن علم النفس کے فطری اصولوں کے ماتحت مبارک کی صفت یقیناً مقدم ہے اور یہی پہلے آنی چاہئے تھی۔اور اسی لئے خدا تعالیٰ نے اسے پہلے بیان کیا ہے۔گو بد قسمتی سے اس وقت جو الہامی عبارت مسجد مبارک میں آویزاں ہے۔اس میں بھی یہ غلطی ہوگئی ہے کہ کا تب صاحب نے سہؤا مبارک کو مبارک سے پہلے لکھ دیا ہے۔لیکن بہر حال جو بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات سے ثابت ہے وہی درست سمجھی جائے گی۔الغرض اس الہام میں مسجد مبارک کے متعلق تین عظیم الشان وعدے ہیں۔(۱) یہ مسجد خدا کے فضل و کرم سے برکت دھندہ ہے۔(۲) یہ مسجد خدا کی طرف سے برکت یافتہ ہے۔(۳) اس مسجد میں ہر قسم کے بابرکت کام ہوتے رہیں گے۔اور پھر جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔اس الہام سے مسجد کی تعمیر کی تاریخ بھی نکلتی ہے۔جو ۱۳۰۰ھ ہے۔اور یہ وہ زمانہ ہے جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماموریت کا الہام تو ہو چکا تھا مگر ابھی تک بیعت کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا۔دوسرا الہام دوسرا الہام جو اس مسجد کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہوا وہ بھی اوّل الذکر الہام کے قریب کے زمانہ کا ہے اور وہ یہ ہے۔فِيهِ بَرَكَاتُ لِلنَّاسِ وَمَنْ دَخَلُهُ كَانَ آمِنًا ! یعنی چونکہ اس مسجد میں لوگوں کے واسطے غیر معمولی برکات رکھی گئی ہیں اس لئے اس مسجد کو خدا کے نزدیک یہ مرتبہ حاصل ہے کہ جو شخص بھی اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ اس کے اندر داخل ہوگا وہ ہر قسم کے خطرات سے محفوظ ہو جائے گا۔“ اس الہام میں یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ اس مسجد میں روحانی طور پر داخل ہونے والا شخص ان تمام خطرات سے محفوظ ہو جائے گا۔جو ایک سالک راہ کو دین کے رستہ میں پیش آسکتے ہیں۔گویا وہ شیطان کے پنجے سے رہائی پا کر خدا کی گود میں چلا جائے گا۔علاوہ ازیں الفاظ مــن دخـلـہ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ یہ مسجد کعبتہ اللہ کی مثیل ہے اور گویا خدا کے نزدیک حرم ہونے کا شرف رکھتی ہے۔کیونکہ بعینہ یہی