مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 626 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 626

مضامین بشیر اسلام میں مساجد کا مقام ۶۲۶ ہماری مسجد مبارک اسلام میں مساجد کو جو خاص روحانی مقام حاصل ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔یہ وہ مرکزی نقطہ ہے جس کے اردگر داسلامی سوسائٹی کے تمام نیک اعمال چکر لگاتے ہیں۔یہ اس مقدس کعبتہ اللہ کا عکس ہے جو دنیا میں خدا اور انسان کا پہلا گھر قرار دیا گیا ہے۔یہ تصویری زبان میں اس روحانی تعلق کا ظاہری اور مادی نشان ہے۔جو ایک نیک بندے کو اس کے آسمانی آقا کے ساتھ پیوست کرتا ہے۔یہ اسلامی مساوات کی ایک بولتی ہوئی تصویر ہے۔جس کے سامنے کسی سرکش اور متکبر انسان کو اپنے کسی غریب اور عاجز بھائی کے مقابل پر بڑائی کا دم بھرنے کی جرات نہیں ہو سکتی۔یہ وہ چوبیس گھنٹے کھلا رہنے والا روحانی ہسپتال ہے۔جس میں ہر دکھتے ہوئے دل پر رحمت کا بھا یہ رکھا جاتا ہے۔یہ وہ امن وعافیت کا حصار ہے جس میں داخل ہو کر انسان دنیا کے فکروں اور اس سفلی زندگی کی پریشانیوں سے نجات پاتا ہے۔پھر جب ہر مسجد کا یہ حال ہے تو اس مسجد کا کیا کہنا جسے خدائے قدیر ورحیم نے اپنی رحمت وقدرت کے ہاتھوں سے خاص طور پر ممسوح کیا ہو۔اور میں اس جگہ ایک ایسی ہی بابرکت مسجد کا ذکر کر نے لگا ہوں۔قادیان کی دو مساجد قادیان میں گواس وقت خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ کی کم از کم بارہ مسجد میں ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں صرف دو مسجدیں ہوتی تھیں۔ایک وہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رہائشی مکان کے ساتھ ملحق ہے۔جس کا نام مسجد مبارک ہے اور دوسری وہ جس کے اندر منارۃ المسیح تعمیر شدہ ہے۔اور جو عرف عام میں مسجد اقصیٰ کہلاتی ہے یہ دو مسجد میں گویا ہماری مرکزی مسجد میں ہیں۔جن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کثرت کے ساتھ نمازیں ادا فرمائی ہیں۔ان دو مسجدوں میں سے مسجد مبارک کے نام کے متعلق کوئی اختلاف نہیں ہے۔کیونکہ یہ نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہاموں میں آچکا ہے۔اور شروع سے ہی جماعت احمدیہ ال میں اس مسجد کے متعلق استعمال ہوتا چلا آیا ہے۔مگر مسجد اقصیٰ کے نام کے متعلق اختلاف ہے۔اور