مضامین بشیر (جلد 1) — Page 56
مضامین بشیر ۵۶ زائد نہ کرتے تو اچھا ہوتا مگر افسوس ہے کہ ایسا نہیں کیا گیا۔دوسری بات یہ ہے کہ سیکرٹری صاحب انجمن اشاعت اسلام لاہور نے ہر قسم کے مضامین کو ایک ہی درجہ میں رکھا ہے اور اختلافی مضامین اور عام تحقیقی مضامین میں کوئی امتیاز نہیں کیا جو کہ ایک صریح غلطی ہے۔میں نے جو ایڈیٹر صاحب پیغام صلح کی خدمت میں لکھا تھا اس کا منشاء یہ تھا کہ چونکہ میرا یہ مضمون ایک عام علمی مضمون ہے اور طرفین کے اختلافی عقائد کے ساتھ اسے کوئی تعلق نہیں اس لئے ایڈیٹر صاحب کو اسے اپنے اخبار میں شائع کرنے میں کوئی عذر نہیں ہونا چاہیئے۔والا اگر میرا یہ مضمون اختلافی عقائد سے تعلق رکھتا تو میں کبھی بھی ایسا خط نہ لکھتا۔کیونکہ میں جانتا ہوں اختلافی عقائد کے اظہار کے لئے فریقین کے اپنے اپنے اخبارات موجود ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم فریق مخالف سے یہ امید رکھیں کہ وہ اختلافی عقائد کے متعلق ہمارے مضامین اپنے اخبار میں شائع کرنے کی اجازت دے گا۔اور دراصل مستثنیات کو الگ رکھیں تو ایسا ہونا بھی مشکل ہے کیونکہ اس طریق میں بعض ایسی عملی دقتوں کے رونما ہونے کا احتمال ہے کہ جن سے بجائے اس کے کہ تعلقات میں کوئی اصلاح کی صورت پیدا ہو۔فساد کے بڑھنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔لیکن عام علمی اور تحقیقی مضامین شائع کرنے میں اس قسم کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔بلکہ ایسا طریق علاوہ وسعت حوصلہ پیدا کرنے کے آپس کے تعلقات کو خوشگوار بنانے کا موجب ہو سکتا ہے۔اور چونکہ میرا مضمون اختلافی عقائد کے متعلق نہ تھا اس لئے میں نے محض نیک نیتی کے ساتھ ایڈیٹر صاحب پیغام صلح لا ہور کی خدمت میں خط لکھ کر یہ درخواست کی تھی کہ اگر ممکن ہو تو میرے مضمون کو وہ اپنے اخبار میں شائع کر کے مجھے اور عام پبلک کو ممنون فرمائیں۔لیکن افسوس ہے کہ اس کے جواب میں سیکرٹری صاحب احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور نے ایک ایسا سوال کھڑا کر دیا کہ جس کا نتیجہ سوائے اس کے کہ طرفین آپس میں الجھنا شروع کر دیں اور کوئی نہیں ہو سکتا۔میں نے کسی ایسے مضمون کے لئے پیغام صلح کے کالموں کی فیاضی کا مطالبہ نہیں کیا تھا جو فریقین کے اختلافی عقائد سے تعلق رکھتا ہو۔بلکہ ایک عام علمی اور تحقیقی مضمون کی اشاعت کی درخواست کی تھی۔اس کے جواب میں مجھ سے یہ کہنا کہ جب تک الفضل ہمارے مضامین کے شائع کرنے کی اجازت نہیں دے گا اُس وقت تک تمہارا مضمون پیغام صلح میں شائع نہیں ہوسکتا انصاف سے بعید ہے۔اوّل تو الفضل میرا اخبار نہیں ہے بلکہ جماعت احمدیہ کے مرکزی نظام کی نگرانی میں شائع ہوتا ہے اور مجھے اس کی پالیسی یا اس کے انتظام سے کسی قسم کا بلا واسطہ تعلق نہیں۔پس اس کے متعلق مجھ سے کوئی فیصلہ چاہنا خلاف اصول ہے۔دوسرے میرا یہ خط جو میں نے ایڈیٹر صاحب پیغام صلح کی خدمت میں