مضامین بشیر (جلد 1) — Page 55
۵۵ مضامین بشیر ہوں جو ڈاکٹر صاحب موصوف نے سیرۃ المہدی سے پیش فرما کر ان پر جرح کی ہے۔لیکن اس بحث کے شروع کرنے سے قبل میں ضمنی طور پر ایک اور بات بھی کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ جب میں نے ڈاکٹر صاحب کے مضمون کا جواب لکھنا شروع کیا تو میں نے ایڈیٹر صاحب پیغام صلح لاہور کے نام ایک خط ارسال کیا تھا۔جس کی نقل میں نے نہیں رکھی۔مگر جس کا مضمون جہاں تک مجھے یاد ہے یہ تھا کہ چونکہ ڈاکٹر صاحب کا مضمون جو سیرۃ المہدی کی تنقید میں لکھا گیا ہے۔پیغام صلح میں شائع ہوتا رہا ہے۔اس لئے کیا ایڈیٹر صاحب پیغام صلح اس بات کے لئے تیار ہوں گے کہ میں اپنا مضمون بھی ان کی خدمت میں ارسال کر دوں۔اور وہ اُسے اپنے اخبار میں شائع فرما ئیں۔تا کہ جن اصحاب تک ڈاکٹر صاحب کی جرح پہنچی ہے ان تک میرا جواب بھی پہنچ جائے۔اور پبلک کو کسی صحیح نتیجہ پر پہنچنے میں امداد ملے۔اس خط کا جو جواب مجھے موصول ہوا وہ سیکرٹری صاحب احمد یہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کی طرف سے تھا اور مضمون کے لحاظ سے وہ وہی تھا جس کی مجھے امید تھی لیکن اس بات سے مجھے خوشی ہوئی کہ خط کا لب ولہجہ اچھا تھا۔اور ڈاکٹر صاحب کا سا دل آزار طریق اختیار نہیں کیا گیا تھا بلکہ متانت اور تہذیب کے ساتھ جواب دیا گیا تھا۔خط کا مضمون خلاصہ یہ تھا کہ جو تجویز تمہاری طرف سے پیش کی گئی ہے وہ پسندیدہ ہے لیکن کیا کارکنان الفضل بھی ہمارے مضامین ( غیر مبایعین کے مضامین ) کو اپنے اخبار میں جگہ دینے کے لئے تیار ہوں گے۔اگر الفضل والے اس بات کے لئے تیار ہوں تو تمہارا یہ مضمون پیغام صلح میں شائع کیا جا سکتا ہے۔اور پھر یہ بھی تجویز کی گئی تھی کہ بہتر ہو کہ طرفین کی جانب سے چند آدمی نامزد کر دئے جائیں۔جن کے سوا کسی اور کو ایک دوسرے کے خلاف قلم اٹھانے کی اجازت نہ ہو۔وغیرہ ذالک میں یہ عرض کر چکا ہوں کہ اس خط کے الفاظ اور طرز تحریر کے متعلق مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن اس کے مضمون سے ضرور ایک حد تک اختلاف رکھتا ہوں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر اصولاً ہمارے غیر مبایع دوستوں کو اس بات سے اتفاق ہے کہ ان کا اخبار مخالف خیالات کے اظہار کے لئے بھی کھلا ہونا چاہیئے اور اسے وہ علمی تحقیق کے لئے مفید سمجھتے ہیں تو یہ خیال درمیان میں نہیں آنا چاہیئے کہ جب تک الفضل اس بات کے لئے آمادہ نہیں ہو گا اس وقت تک پیغام صلح بھی ہمارے مضمون نہیں لے سکتا۔اگر ایک طریق اچھا اور پسندیدہ ہے تو کسی دوسرے کا اسے قبول نہ کرنا اس بات کا موجب نہیں ہونا چاہیئے کہ ہم بھی جو اس کی خوبی کے معترف ہیں اسے رڈ کر دیں۔پس میرے خیال میں سیکرٹری صاحب انجمن احمد یہ اشاعت اسلام لاہور نے جہاں اتنی وسعت قلب دکھائی تھی کہ اصولاً میرے مضمون کے شائع کرنے کی تجویز کو قبول کر لیا تھا۔وہاں اگر ذرا اور وسعت سے کام لے کر ” الفضل والی شرط