مضامین بشیر (جلد 1) — Page 57
۵۷ مضامین بشیر ارسال کیا تھا ایک بالکل پرائیویٹ خط تھا جس کے جواب میں کوئی محکمانہ بحث شروع نہیں کی جاسکتی تھی۔اور تیسرے میں نے یہ خط اس نیت اور خیال سے لکھا تھا کہ چونکہ میرا یہ مضمون ایک عام علمی مضمون ہے اور اختلافی عقائد سے اسے کوئی تعلق نہیں اس لئے کارکنان پیغام صلح کو اس کے شائع کرنے میں تامل نہیں ہو سکتا۔مگر میری اس درخواست سے ناجائز فائدہ اٹھا کر مجھے یہ جواب دیا گیا کہ جب تک الفضل کے کالم غیر مبایعین کے مضامین کے لئے کھولے نہ جائیں گے اس وقت تک پیغام صلح تمہارا مضمون شائع کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔یہ طریق کسی طرح بھی جائز اور صلح جوئی کا طریق نہیں سمجھا جاسکتا۔پھر میں یہ کہتا ہوں کہ کب کسی غیر مبائع کی طرف سے کوئی عام علمی مضمون الفضل میں شائع ہونے کے لئے آیا۔اور الفضل والوں نے اس کا انکار کیا ؟ کم از کم میرے علم میں کوئی ایسی مثال نہیں ہے کہ کسی غیر مبائع نے کوئی عام تحقیقی مضمون جسے اختلافی عقائد سے تعلق نہ ہو الفضل، میں بھیجا ہوا اور پھر کارکنان الفضل نے اسے محض اس بناء پر رڈ کر دیا ہو کہ اس کا لکھنے والا جماعت مبایعین میں سے نہیں ہے پس جب کوئی ایسی مثال موجود ہی نہیں ہے تو ایک فرضی روک کو آڑ بنا کر انکار کر دینا انصاف سے بعید ہے۔اگر سیکرٹری صاحب احمد یہ انجمن اشاعت اسلام لا ہور اس بناء پر انکار فرماتے کہ ان دنوں میں پیغام صلح میں اس مضمون کے شائع ہونے کی گنجائش نہیں ہے یا کوئی اور اسی قسم کی روک بیان کرتے جو بعض اوقات اخبار نویسوں کو پیش آجاتی ہے تو مجھے ہر گز کوئی شکایت نہ تھی۔لیکن افسوس یہ ہے کہ اول تو ہر قسم کے مضامین کو ایک ہی حکم کے ماتحت سمجھ کر ایک ہی فتویٰ لگا دیا گیا ہے اور اختلافی مضامین اور عام علمی اور تحقیقی مضامین میں کوئی فرق نہیں کیا گیا اور دوسرے الفضل کا نام درمیان میں لاکر روک پیش کر دی گئی ہے جو بالکل فرضی اور موہوم ہے میں امید کرتا ہوں کہ میرے یہ چند الفاظ سیکر ٹری صاحب انجمن اشاعت اسلام لاہور کی تسلی کے لئے کافی ہوں گے۔اب میں اصل مضمون کی طرف متوجہ ہوتا ہوں پہلی مثال جو ڈاکٹر صاحب موصوف نے بیان فرمائی ہے۔وہ منگل کے دن کے متعلق ہے میں نے سیرۃ المہدی حصہ اول میں حضرت والدہ صاحبہ کی زبانی یہ روایت درج کی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام منگل کے دن کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔اس روایت پر ڈاکٹر صاحب نے بڑی لمبی جرح کی ہے جو کئی حصوں پر منقسم ہے اور میں ضروری سمجھتا ہوں کہ مختصر اتمام حصوں کا جواب دوں۔کیونکہ میرے خیال میں اس امر میں ڈاکٹر صاحب نے بڑی سخت غلطی کھائی ہے اور صرف ایک عامیانہ جرح کر کے اپنے دل کو خوش کرنا چاہا ہے لیکن پیشتر اس کے کہ میں اس جرح کا جواب دوں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سیرت المہدی حصہ اول کے شائع ہونے کے بعد مجھے بعض دوستوں کی طرف سے بھی یہ بات پہنچی تھی کہ یہ روایت کچھ وضاحت چاہتی ہے۔چنانچہ میں