مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 50 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 50

مضامین بشیر دروازہ بھی ساتھ ہی کھل جاتا ہے۔ایک مشہور مقولہ ہے کہ جتنے منہ اتنی باتیں اور دنیا کے تجربہ نے اس مقولہ کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔جہاں تک مشاہدہ اور واقعہ کا تعلق ہے۔وہاں تک تو سب متفق رہتے ہیں۔اور کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوتا۔والشاذ کا لمعد وم لیکن جونہی کہ کسی مشاہدہ یا واقعہ سے استدلال واستنباط کرنے اور اس کا ایک مفہوم قرار دے کر اس سے استخراج نتائج کرنے کا سوال پیدا ہوتا ہے پھر ہر شخص اپنے اپنے رستہ پر چل نکلتا ہے اور حق و باطل میں تمیز کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔پس یہ بات منہ سے کہہ دینا تو بہت آسان ہے کہ جو روایت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طریق عمل کے خلاف ہو اسے رڈ کر دو۔یا جو بات تمہیں حضرت کی تحریرات کے خلاف نظر آئے اسے قبول نہ کرو اور کوئی عقلمند اصولاً اس کا منکر نہیں ہوسکتا لیکن اگر ذرا غور سے کام لے کر اس کے عملی پہلو پر نگاہ کی جائے تب پتہ لگتا ہے کہ یہ جرح و تعدیل کوئی آسان کام نہیں ہے اور ہر شخص اس کی اہلیت نہیں رکھتا کہ روایات کو اس طرح اپنے استدلال واستنباط کے سامنے کاٹ کاٹ کر گرا تا چلا جائے۔بے شک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طریق عمل کے خلاف کوئی روایت قابل شنوائی نہیں ہو سکتی مگر طریق عمل کا فیصلہ کرنا کارے دارد۔اور میں اس شیر دل انسان کو دیکھنا چاہتا ہوں جو یہ دعوی کرے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا طریق عمل قرار دینے میں اس کی رائے غلطی کے امکان سے بالا ہے۔اسی طرح بے شک جو روایت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات کے خلاف ہوا سے کوئی احمدی قبول نہیں کر سکتا۔مگر تحریرات کا مفہوم معین کرنا بعض حالتوں میں اپنے اندر ایسی مشکلات رکھتا ہے۔جن کا حل نہایت دشوار ہو جاتا ہے۔اور مجھے ایسے شخص کی جرات پر حیرت ہوگی جو یہ دعوی کرے کہ حضرت کی تحریرات کا مفہوم معین کرنے میں اس کا فیصلہ ہر صورت میں یقینی اور قطعی ہوتا ہے۔پس جب درایت کا پہلو اپنے ساتھ غلطی کے احتمالات رکھتا ہے تو اس پر ایسا اندھا دھند اعتماد کرنا کہ جو بھی روایت اپنی درایت کے خلاف نظر آئے اسے غلط قرار دے کر رڈ کر دیا جائے ، ایک عامیانہ فعل ہو گا جو کسی صورت میں بھی سلامت روی اور حق پسندی پر مبنی نہیں سمجھا جا سکتا۔مثال کے طور پر میں ڈاکٹر صاحب کے سامنے مسئلہ نبوت پیش کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات ہر دو فریق کے سامنے ہیں لیکن مبایعین کی جماعت ان تحریرات سے یہ نتیجہ نکالتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور غیر مبایعین یہ استدلال کرتے ہیں کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔اور فریقین کے استدلال کی بنیاد حضرت مسیح موعود کی تحریرات پر ہے۔اب اگر درایت کے پہلو کو آنکھیں بند کر کے ایسا مرتبہ دے دیا جائے کہ جس کے سامنے روایت کسی صورت میں بھی قابل قبول نہ ہو تو اس کا نتیجہ سوائے اس کے اور کیا۔-