مضامین بشیر (جلد 1) — Page 49
۴۹ مضامین بشیر شایان شان نہیں تو مجھے اس کا افسوس ہے۔ساتواں اور آخری اصولی اعتراض جو ڈاکٹر صاحب نے بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ سیرۃ المہدی کی بہت سی روایات درایت کے اصول کے لحاظ سے غلط ثابت ہوتی ہیں اور جو بات درایتہ غلط ہو وہ خواہ روایت کی رو سے کیسی ہی مضبوط نظر آئے اسے تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔مثلاً ڈاکٹر صاحب کا بیان ہے کہ سیرۃ المہدی میں بعض ایسی روایتیں آگئی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی تحریرات کے صریح خلاف ہیں بلکہ بعض حالتوں میں آپ کے مزیل شان بھی ہیں اور ایسی حالت میں کوئی شخص جو آپ کو راست بازیقین کرتا ہو، ان روایات کو قبول نہیں کر سکتا۔راوی کے بیان کو غلط قرار دیا جا سکتا ہے مگر حضرت مسیح موعود پر حرف آنے کو ہمارا ایمان ، ہمارا مشاہدہ، ہمارا ضمیر قطعاً قبول نہیں کر سکتا۔خلاصہ کلام یہ کہ ایسی روایتیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طریق عمل اور آپ کی تحریرات کے صریح خلاف ہوں قابل قبول نہیں ہیں مگر سیرت المہدی میں اس قسم کی روایات کی بھی کوئی کمی نہیں وغیرہ وغیرہ۔اس اعتراض کے جواب میں میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں اصولاً اس بات سے متفق ہوں کہ جو روایات واقعی اور حقیقتا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طریق عمل اور آپ کی تعلیم اور آپ کی تحریرات کے خلاف ہیں وہ کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں ہو سکتیں اور ان کے متعلق بہر حال یہ قرار دینا ہوگا کہ اگر راوی صادق القول ہے تو یا تو اس کے حافظہ نے غلطی کھائی ہے اور یا وہ بات کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکا۔اس لئے روایت کرنے میں ٹھوکر کھا گیا ہے۔اور یا کوئی اور اس قسم کی غلطی واقع ہو گئی ہے جس کی وجہ سے حقیقت امر پر پردہ پڑ گیا ہے۔واقعی زبانی روایات سے سوائے اس کے کہ وہ تواتر کی حد کو پہنچ جائیں صرف علم غالب حاصل ہوتا ہے اور یقین کامل اور قطعیت تامہ کا مرتبہ ان کو کسی صورت میں نہیں دیا جاسکتا۔پس لامحالہ اگر کوئی زبانی روایت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ثابت شدہ طریق عمل اور آپ کی مسلم تعلیم اور آپ کی غیر مشکوک تحریرات کے خلاف ہے تو کوئی عقیدت مندا سے قبول کرنے کا خیال دل میں نہیں لاسکتا۔اور اس حد تک میرا ڈاکٹر صاحب کے ساتھ اتفاق ہے۔لیکن بایں ہمہ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ عملاً یہ معاملہ ایسا آسان نہیں ہے جیسا کہ ڈاکٹر صاحب موصوف نے سمجھ رکھا ہے۔درایت کا معاملہ ایک نہایت نازک اور پیچیدہ معاملہ ہے اور اس میں جرات کے ساتھ قدم رکھنا سخت ضرر رسان نتائج پیدا کر سکتا ہے۔دراصل جہاں بھی استدلال و استنباط ، قیاس و استخراج کا سوال آتا ہے وہاں خطر ناک احتمالات و اختلافات کا مطبوعه الفضل ۱۱ جون ۱۹۲۶ء