مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 51 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 51

۵۱ مضامین بشیر ہوسکتا ہے کہ جو روایت غیر مبایعین کو ایسی ملے جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت ثابت ہوتی ہو تو وہ اسے رڈ کر دیں۔کیونکہ وہ بقول ان کے آپ کی تحریرات کے خلاف ہے۔اور اگر کوئی روایت مبایعین کے سامنے ایسی آئے جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبوت کا دعویٰ نہیں تھا تو وہ اسے قبول نہ کریں۔کیونکہ بقول ان کے یہ روایت حضرت صاحب کی تحریرات کے خلاف ہے۔اسی طرح مبایعین کا یہ دعویٰ ہے کہ غیر احمدیوں کا جنازہ پڑھنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طریق عمل کے خلاف تھا۔اور غیر مبایعین یہ کہتے ہیں کہ جو غیر احمدی مخالف نہیں ہیں ان کا جنازہ پڑھ لینا حضرت مسیح موعود کے طریق عمل کے خلاف نہیں۔اب اس حالت میں ڈاکٹر صاحب کے پیش کردہ اصول پر اندھا دھند عمل کرنے کا نتیجہ سوائے اس کے اور کیا ہوسکتا ہے۔کہ اگر کسی مبایع کو کوئی ایسی روایت پہنچے کہ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بعض حالتوں میں غیروں کا جنازہ پڑھ لیتے تھے یا پڑھنا پسند فرماتے تھے تو وہ اسے رڈ کر دے۔کیونکہ بقول اس کے یہ بات حضرت کے طریق عمل کے خلاف ہے۔اور جب کوئی روایت کسی غیر مبالع کو ایسی ملے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام غیروں کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے یا پڑھنا پسند نہیں فرماتے تھے تو خواہ یہ روایت اصول روایت کے لحاظ سے کیسی ہی پختہ اور مضبوط ہو وہ اسے ردی کی ٹوکری میں ڈال دے کیونکہ بقول اس کے یہ روایت حضرت صاحب کے طریق عمل کے خلاف ہے۔ناظرین خود غور فرمائیں کہ اس قسم کی کاروائی کا سوائے اس کے اور کیا نتیجہ ہوسکتا ہے کہ علم کی ترقی کا دروازہ بند ہو جائے اور ہر شخص اپنے دماغ کی چادیواری میں ایسی طرح محصور ہو کر بیٹھ جائے کہ باہر کی ہوا اسے کسی طرح بھی نہ پہنچ سکے اور اس کا معیار صداقت صرف یہ ہو کہ جو خیالات وہ اپنے دل میں قائم کر چکا ہے۔ان کے خلاف ہر اک بات خواہ وہ کیسی ہی قابل اعتماد ذرائع سے پایہ ثبوت کو پہنچی ہوئی ہو رڈ کئے جانے کے قابل ہے کیونکہ وہ اس کی درایت کے خلاف ہے۔مکرم ڈاکٹر صاحب مجھے آپ کے بیان سے اصولی طور پر اتفاق ہے مگر میں افسوس کرتا ہوں کہ آپ نے اس مسئلہ کے عملی پہلو پر کما حقہ غور نہیں فرمایا۔ورنہ آپ درایت کے ایسے دلدادہ نہ ہو جاتے کہ اس کے مقابلہ میں ہر قسم کی روایت کورڈ کئے جانے کے قابل قرار دیتے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آپ ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں تو آپ کو معلوم ہو کہ اصل چیز جس پر بنیا د رکھی جانی چاہیئے وہ روایت ہی ہے اور علم تاریخ کا سارا دارو مدار اسی اصل پر قائم ہے اور درایت کے اصول صرف بطور زوائد کے روایت کو مضبوط کرنے کے لئے وضع کئے گئے ہیں اور آج تک کسی مستند اسلامی مؤرخ نے ان پر ایسا اعتماد نہیں کیا کہ ان کی وجہ سے صحیح اور ثابت شدہ روایات کو ترک