مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 547 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 547

۵۴۷ مضامین بشیر مبر کے متعلق اسلام کی اصولی تعلیم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسوہ حسنہ سیده نواب مبارکه بیگم صاحبہ کے مہر کے متعلق ضروری تشریح کچھ عرصہ ہوا الفضل میں مہر کے متعلق حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کا ایک اصولی اور قیمتی ارشاد شائع ہوا تھا۔اس ارشاد کی ضمن میں ہمشیرہ مکر مہ مبارکہ بیگم صاحبہ کے مہر کا بھی ذکر آیا تھا۔اس بارے میں حضرت ام المومنین اطال اللہ ظلہا سے جو علم مجھے حاصل ہوا ہے، میں مناسب خیال کرتا ہوں کہ اسے دوستوں کی اطلاع کے لئے شائع کر دوں۔حضرت ام المومنین نے مجھ سے فرمایا کہ تمہاری ہمشیرہ مبارکہ بیگم کا مہر چھپن ہزار روپیہ مقرر ہوا تھا اور جب یہ مہر مقرر ہوا تو حضرت صاحب ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) نے مجھ سے فرمایا تھا کہ : - یہ مہر اس لئے زیادہ رکھا گیا ہے کہ معلوم ہوا ہے کہ ریاست مالیر کوٹلہ میں خاوند کی جائداد میں سے بیوی کو حصہ نہیں ملتا۔گویا اس قدر مہر مقرر کئے جانے میں یہ بات بھی مد نظر تھی کہ جائداد میں سے حصہ نہ ملنے کی تلافی ہو جائے۔‘۱۳ اس روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جو مہر ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ کا مقرر کیا گیا تھا یعنی چھپن ہزار روپیہ (حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی ایک تقریر میں سہواً پچپن ہزار مذکور ہے مگر دراصل مہر چھپن ہزار تھا) وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رائے اور خیال کے مطابق مہر کے عام معیار سے زیادہ تھا اور اس زیادتی کی وجہ یہ تھی کہ ریاست کے قانون کے مطابق ہماری ہمشیرہ کو اخویم محترم نواب محمد علی خانصاحب کی جائداد میں سے حصہ نہیں مل سکتا تھا۔پس اس کمی کو اس رنگ میں پورا کر دیا گیا۔اس ضمن میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جس وقت ہماری ہمشیرہ کی شادی ہوئی تھی اس وقت نواب صاحب موصوف کی سالانہ آمد قریباً چوبیس ہزار روپی تھی۔( گو بعد میں نواب صاحب کی