مضامین بشیر (جلد 1) — Page 548
مضامین بشیر ۵۴۸ آمد زیادہ ہوگئی ) اس طرح ہماری ہمشیرہ کا مہر گویا نواب صاحب کی دوسال کی آمد سے بھی زیادہ تھا۔( گو اس وقت اسے ایک غلط فہمی کی بناء پر دو سال کی آمد کے برابر سمجھا گیا تھا ) مگر جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔یہ زیادتی مہر کے عام اصول کے ماتحت نہیں تھی۔بلکہ جائداد کے حصہ کی کمی کو پورا کرنے کے لئے تھی۔مہر کے متعلق قرآن کریم کا ارشاد اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں یہ بات بھی دوستوں کی خدمت میں عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم اور سنت نبوی سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مہر میں گو بہر حال خاوند کی حیثیت کو مد نظر رکھنا ضروری ہے مگر وہ اس قدر گراں نہیں ہونا چاہیئے کہ مرد کے لئے اس کی دوسری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں روک پیدا کر دے یا نا واجب تنگی اور بوجھ کا موجب ہو۔بلکہ ایسا ہونا چاہیئے کہ خاوند اسے طیب نفس اور بشاشت قلب کے ساتھ ادا کر سکے۔چنانچہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- وَاتُو النِّسَاءَ صَدُقَتِهِنَّ نِحْلَةً۔١٢ یعنی اے مرد و! تمہیں چاہیئے کہ عورتوں کا مہر بشاشت قلب اور طیب نفس کے ساتھ ادا کیا کرو۔اور اس کی ادائیگی میں تمہارے دلوں کے اندر تنگی نہ پیدا ہوا کرے۔“ یہ آیت کریمہ جہاں اس ارشاد کی حامل ہے کہ خاوند اپنی بیوی کے مہر کی ادائیگی میں حیل و حجت اور تنگ دلی کا طریق نہ اختیار کرے، وہاں اس آیت میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے کہ مہر ایسا ہونا چاہیئے جسے انسان اپنے حالات کے ماتحت طیب نفس کے ساتھ ادا کر سکے اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ مہر نا واجب طور پر بھاری نہ ہو ورنہ مہر زیادہ باندھ کر پھر یہ توقع رکھنا کہ خاوند اسے بشاشت قلب اور طیب نفس سے ادا کرے ایک تکلیف ما لا يطاق کا رنگ رکھتا ہے جو درست نہیں۔فطری قانون کے ماتحت طیب نفس کی کیفیت تبھی پیدا ہو سکتی ہے کہ جب مہر کی رقم ایسی ہو کہ خاوند سے اپنی مالی حالت کے پیش نظر آسانی اور خوشی کے ساتھ ادا کر سکے۔علاوہ ازیں قرآن شریف کی متعدد آیات میں یہ اشارہ ملتا ہے اور احادیث سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ شریعت اسلامی نے اس بات کو پسند کیا بلکہ بہتر قرار دیا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو خاوند شادی کے وقت ہی اپنی بیوی کا مہر ادا کر دے اور تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ صحابہ کرام عموماً ایسا ہی کیا کرتے تھے۔یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ مہر زیادہ نہیں ہونا چاہیئے۔کیونکہ جب شادی کے موقع پر