مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 546 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 546

مضامین بشیر ۵۴۶ یہ عبارت جس صراحت اور تعیین کے ساتھ نظام خلافت کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔وہ محتاج بیان نہیں اور یہ عبارت بطور وصیت کے لکھی گئی جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا سے قرب وفات کی خبر پا کر اپنے بعد کے نظام کے بارے میں اپنی جماعت کو آخری نصیحت فرمائی اور ہر عقلمند غیر متعصب شخص آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ اس عبارت سے مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں۔اوّل : خدا تعالیٰ انبیاء کے کام کی تکمیل کے لئے دو قسم کی قدرت ظاہر فرماتا ہے۔ایک خود نبیوں کے زمانہ میں اور دوسری ان کی وفات کے بعد تا کہ اُن کے مشن اور اُن کی جماعت کو ایک لمبے عرصہ تک اپنی خاص نگرانی میں رکھ کر ترقی دے اور تکمیل تک پہنچائے۔دوم : دوسری قدرت خلافت کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر کے وجود میں ظاہر ہوئی۔سوم : یہ خلافت کا نظام جو نبوت کے نظام کا حصہ اور اسی کا تمہ ہے خدائی سنت کا رنگ رکھتا ہے اور ہر نبی کے زمانہ میں قائم ہوتا رہا ہے۔چهارم: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد بھی اسی رنگ میں قدرت ثانیہ کا ظہور مقدر تھا۔کیونکہ جیسا کہ آپ خود خدا کی ایک مجسم قدرت تھے۔آپ کے بعد بعض اور وجودوں نے دوسری قدرت کا مظہر ہونا تھا اور ان وجودوں نے حضرت ابوبکر کے رنگ میں ظاہر ہونا تھا۔پنجم : نبی کے بعد آنے والے خلفاء خواہ بظاہر صورت لوگوں کے انتخاب سے مقرر ہوں مگر دراصل ان کے تقرر میں خدا کا ہاتھ کام کرتا ہے اور درحقیقت خلیفہ خدا ہی بناتا ہے۔ششم : سورہ نور کی آیت استخلاف نظام خلافت سے تعلق رکھتی ہے اور حضرت ابو بکر کی خلافت اسی آیت کے ماتحت تھی اور حضرت مسیح موعود کے بعد کی خلافت بھی اسی آیت کے ماتحت ہوئی تھی۔(مطبوعہ الفضل ۷ اپریل ۱۹۴۳ء)