مضامین بشیر (جلد 1) — Page 532
مضامین بشیر ۵۳۲ حضرت مولوی صاحب کی قادیان میں آمد حضرت مولوی صاحب کی اس دینی جدائی کا صدمہ میرے لئے بھی بہت بھاری تھا کیونکہ بسر ہونے کی وجہ سے وہ میرے لئے گویا باپ کے حکم میں تھے اور میں اپنی بعض تنہائی کی گھڑیوں میں یہ سوچا کرتا تھا کہ کہیں ان کی یہ جدائی اور دوری میرے کسی مخفی عمل کی شامت کا نتیجہ نہ ہو مگر میرے لئے سوائے دعا کے اور کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ حضرت مولوی صاحب مرحوم با وجود نهایت با اخلاق بزرگ ہونے کے اپنے خیالات میں بہت پختہ اور سخت تھے اور اب ان کی عمر بھی ایسی ہو چکی تھی جس میں عموماً انسان کے خیالات میں ایک قسم کا ٹھوس پن پیدا ہو جاتا ہے۔اور انسانی دماغ کسی ذہنی تبدیلی کے لئے جلد تیار نہیں ہوسکتا لیکن خدائی تقدیر اپنی مخفی تاروں کے ساتھ بر سر عمل تھی اور جیسا کہ مجھے بعد میں معلوم ہوا حضرت مولوی صاحب اپنے رفقاء لا ہور کو قریب سے دیکھنے کے نتیجہ میں ان کے طور طریق سے آہستہ آہستہ بدظن ہورہے تھے اسی حالت میں خلافت جو بلی کی تقریب آگئی اور مجھے اس کے لئے کتاب سلسلہ احمدیہ کی تصنیف میں مصروف ہونا پڑا۔اس تصنیف کے دوران میں جب میں سلسلہ کی تاریخ کے اس حصہ میں پہونچا جو غیر مبایعین کے فتنہ سے تعلق رکھتا ہے تو اس وقت یہ حقیقت اپنی انتہائی تلخی کے ساتھ میرے سامنے آئی کہ میرا ایک نہایت قریبی بزرگ ابھی تک خلافت حقہ کے دامن سے جدا ہے اور میں نے اس رسالہ کے لکھتے لکھتے یہ دعا کی کہ خدایا تو ہر چیز پر قادر ہے اگر تیری کوئی اٹل تقدیر مانع نہیں تو تو انہیں حق کی شناخت عطا کر اور ہماری اس جدائی کو دُور فرما دے۔میں اپنے خدا کا رکس مونہہ سے شکر ادا کروں کہ ابھی اس رسالہ کی اشاعت پر ایک مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ ہمارے خدا کی مخفی تاریں حضرت مولوی صاحب کو کھینچ کر قادیان لے آئیں اور وہ چھیں سال کی لمبی جدائی کے بعد بیعت خلافت سے مشرف ہو گئے۔فالحمد لله على ذالك ولا حول ولا قوة الا بالله العلى العظيم نیکی اور فطری سعادت جہاں تک ظاہری اسباب کا تعلق ہے اس غیر معمولی اور غیر متوقع تغیر کا باعث حضرت مولوی صاحب کی اپنی نیکی اور اپنی فطری سعادت تھی۔حدیث میں آتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک قریبی رشتہ دار حکیم بن حزام ایک لمبی مخالفت کے بعد مسلمان ہوئے تو انہوں نے آنحضرت