مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 531 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 531

۵۳۱ مضامین بشیر غیر معمولی موقع پیدا کر دیا تھا اور خدا نے بھی ان کی اس تبلیغ کو نوازا اور انہیں بہتوں کی ہدایت کا ذریعہ بنا دیا۔اں سعادت بزور تا بازو نیست خدائے بخنده ام مظفر احمد کی قربانی اور اس کا ثمرہ مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد اچانک ایک تغیر آیا اور حضرت مولوی صاحب مرحوم اپنے بعض دوستوں کے ساتھ اس غلطی میں مبتلا ہو گئے کہ حضرت مسیح موعود کے بعد خلافت نہیں بلکہ انجمن ہے اور یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے رسالہ ”الوصیت میں انجمن ہی کو اپنا کلی جانشین مقرر فرمایا ہے۔یہ خیال اتنا غالب ہوا کہ مولوی صاحب موصوف اس خیال کے لیڈروں میں سے ایک لیڈر بن گئے اور جب حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات ہوئی تو وہ غیر مبایعین میں شامل ہو کر مرکز سے کٹ گئے اور قادیان کے ساتھ تمام تعلقات منقطع کر لئے اور گو انہوں نے کبھی معاندانہ رنگ میں مخالفت نہیں کی مگر پھر بھی اصولاً وہ شدید مخالف تھے اور یہ وقت میری رفیقہ حیات ام مظفر احمد کے لئے ایک بڑے امتحان کا وقت تھا۔کیونکہ نہ صرف باپ بلکہ ماں اور سارے بہن بھائی اور دوسرے جدی عزیز غیر مبایعین کے ساتھ ہو گئے تھے اور ان کے لئے میرے ساتھ رہنے کا یہ مطلب تھا کہ وہ عملاً اپنے تمام رشتہ داروں کے ساتھ قطع تعلق کر لیں مگر خدا نے انہیں توفیق دی اور ہمت عطا کی۔چنانچہ میرے دریافت کرنے پر انہوں نے بلا تامل جواب دیا کہ میں بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے ساتھ ہوں میں یقین کرتا ہوں کہ یہ زیادہ تر ان کی اسی قربانی کا ثمرہ تھا کہ چھبیس سال کے طویل عرصہ کے بعد جو گویا ایک نسل کا حکم رکھتا ہے اللہ تعالیٰ جو کسی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی ضائع نہیں فرماتا اور ہر نیکی کے مناسب حال اس کا بدلہ دیتا ہے ، ان کے والد کو ان کے باقی تمام رشتہ داروں سے کاٹ کر اور بیٹوں تک سے جدا کر کے ان کے پاس لے آیا اور انہی کے مکان میں انہیں کے ہاتھوں میں وفات دی۔مجھے پھر کہنا چاہیئے کہ اس سعادت بزور بخشد خدائے بازو نیست بخشنده