مضامین بشیر (جلد 1) — Page 533
۵۳۳ مضامین بشیر صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ میں جاہلیت کے زمانہ میں صدقہ وخیرات بہت کیا کرتا تھا۔کیا مجھے اس کا بھی کچھ ثواب ملے گا۔آپ نے بے ساختہ فرمایا : - أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ ۳ یعنی تمہیں اسلام کی توفیق ملنا اسی نیکی کی وجہ سے ہے جو تم صدقہ و خیرات کی صورت میں اسلام سے پہلے کیا کرتے تھے۔“ بس یہی حال حضرت مولوی صاحب کی بیعت کا سمجھنا چاہیئے۔ایک غلط فہمی کی وجہ سے انہیں خلافت کے معاملہ میں ٹھو کر لگی مگر نیت خراب نہیں تھی اور تمام زندگی نیکی اور طہارت اور عمل خیر میں گزری تھی اور دنیا کی چیزوں میں کبھی انہاک نہیں کیا اور اپنے آپ کو ہمیشہ خدمت دین کے لئے وقف رکھا۔پس خدائے رحیم وکریم نے جو دلوں کو دیکھتا ہے انہیں وفات سے پہلے ان کی غلطی پر آگاہ کر کے حق کے قبول کرنے کی توفیق عطا کر دی۔گو یا خدا کے فرشتے ان کی نیکی کی طرف دیکھتے ہوئے ان کی موت کو روکے ہوئے تھے۔تا وقتیکہ انہیں حق کی شنا خت نصیب ہو گئی۔گرچہ بھا گئیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار چھبیس سال کی طویل مخالفت خود مخالف خیال کے لیڈر اور روح رواں شدید ترین معاند گروہ کا ما حول ساری اولا د مخالف خیال کی موید - عمر سو سال کے قریب جبکہ انسانی خیالات عموماً ٹھوس صورت اختیار کر کے منجمد ہو جاتے ہیں اور کسی تبدیلی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔بایں ہمہ جب میں نے ۱۹۳۹ء کے جلسہ سالانہ پر حضرت مولوی صاحب موصوف کو قادیان تشریف لانے کی تحریک کی تو انہوں نے کچھ تامل کے بعد اسے قبول کر لیا۔اور پھر چند دن کے قیام کے بعد جنوری ۱۹۴۰ء میں خدا نے انہیں بیعت کی توفیق عطا کر دی۔یقیناً یہ ایک خاص خدائی تقدیر تھی جو ایک طرف ان کی نیکی اور دوسری طرف ہماری دلی تڑپ کی وجہ سے انہیں وفات سے پہلے گویا گھیر گھیر کر قادیان کھینچ لائی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا خوب فرمایا ہے۔دد گرچہ بھا گیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار میرے خسر میری بیوی کے باپ، میرے بچوں کے نانا، چھبیس سال تک خدائی تقدیر سے بھاگا کئے۔حتی کہ اس بھاگ دوڑ میں وہ اس عمر کو پہونچ گئے جبکہ بھاگنے والا عموما چپکے سے بچ کر نکل جایا کرتا ہے مگر خدا کی تقدیر سے کون بھاگ سکتا ہے آخر جب کہ وہ گویا قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے تھے اور