مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 503 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 503

۵۰۳ مضامین بشیر صدقہ دے دیا جائے تو مناسب ہے مثلاً اگر کسی شخص کی ماہوار آمد ایک سو روپیہ ہے تو اس کے لئے مناسب ہے کہ رمضان میں دس روپے صدقہ کر دے۔خدا کے راستہ میں قربانی کرنے والے لوگوں کے لئے یہ رقم یقیناً زیادہ نہیں ہے۔اور پھر یہ تو ایک کھیتی ہے جتنا زیادہ بوؤ گے اسی نسبت سے زیادہ اُگے گا اور اسی نسبت سے زیادہ کاٹو گے۔ہر انسان کے اردگرد کے بے شمار غریب اور مسکین اور یتیم اور مصیبت زدہ اور بیمار وغیرہ بستے ہیں۔رمضان میں ان کی تکلیف کو دور کرنا خدا کی رحمت کو ایسی مضبوط زنجیر کے ساتھ کھینچنے کا حکم رکھتا ہے، جس کے ٹوٹنے کا خدا کے فضل سے کوئی اندیشہ نہیں۔اعتکاف رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے کا ایک طریق اعتکاف بھی ہے۔جس کا قرآن شریف میں مجملاً اور احادیث میں تفصیلاً ذکر آتا ہے۔مسنون اعتکاف یہ ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں کسی مسجد میں ڈیرہ لگا دیا جائے اور سوائے حوائج انسانی یعنی پیشاب پاخانہ وغیرہ کی ضرورت کے مسجد سے باہر نہ نکلا جائے اور یہ دس دن رات خصوصیت کے ساتھ نماز اور قرآن خوانی اور ذکر اور دعا وغیرہ میں گزارے جائیں۔گویا انسان ان ایام میں دنیا سے کٹ کر خدا کے لئے کلیۂ وقف ہو جائے۔اعتکاف فرض نہیں ہے بلکہ ہر انسان کے حالات اور توفیق پر موقوف ہے مگر اس میں شبہ نہیں کہ جس شخص کے حالات اجازت دیں اور اسے اعتکاف کی توفیق میسر آئے اس کے لئے یہ طریق قلب کی صفائی اور روحانی ترقی کے واسطے بہت مفید ہے لیکن جس شخص کو اعتکاف کی توفیق نہ ہو یا اس کے حالات اس کی اجازت نہ دیں تو اس کے لئے یہ طریق بھی کسی حد تک اعتکاف کا مقام ہوسکتا ہے کہ وہ رمضان کے مہینہ میں اپنے اوقات کا زیادہ سے زیادہ حصہ مسجد میں گزارے اور یہ وقت نماز اور قرآن خوانی اور ذکر اور دعا وغیرہ میں صرف کرے۔بے شک اعتکاف کے بدلہ میں یہ کوئی مسنون طریق نہیں ہے لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے شخص کی تعریف فرمائی ہے جس کا دل مسجد میں آویزاں رہتا ہے۔اس لئے یہ طریق بھی اگر حسن نیت سے کیا جائے تو فائدہ سے خالی نہیں ہوسکتا۔نفس کا محاسبہ کیا جائے ششم : چھٹی بات یہ ہے کہ انسان رمضان میں اپنی زندگی کو خصوصیت کے ساتھ رضائے البی کے ماتحت چلائے اور اپنے نفس کا بار بار محاسبہ لیتا رہے کہ کیا میرے اوقات خدا کے منشاء کے ماتحت