مضامین بشیر (جلد 1) — Page 504
مضامین بشیر ۵۰۴ گزر رہے ہیں یا نہیں۔ایسا محاسبہ ہر وقت ہی مفید ہوتا ہے اور کوئی سچا مومن محاسبہ سے غافل نہیں ہوسکتا کیونکہ محاسبہ انسان کو غفلت سے محفوظ رکھتا اور آئندہ کے لئے ہوشیار کرنے کا باعث ہوتا ہے۔مگر رمضان کے مہینہ میں یہ محاسبہ زیادہ کثرت اور زیادہ التزام کے ساتھ ہونا چاہیئے۔مثلاً اگر ہر شخص رمضان میں یہ التزام کرے کہ ہر نماز کے وقت اپنے دل میں یہ محاسبہ کیا کرے کہ کیا میں نے اس سے پہلی نماز کے بعد سے لے کر اس نماز تک اپنا وقت خدا کی رضا میں گزارا ہے اور کیا میں نے اس عرصہ میں کوئی بات منشاء الہی کے خلاف تو نہیں کی تو یقیناً ایسا محاسبہ نفس کی اصلاح کے لئے بہت مفید ہوسکتا ہے اور اس طرح گویا ایک رنگ میں انسان کی زندگی کا ہر لمحہ ہی عبادت بن جاتا ہے۔اسی طرح بستر میں لیٹ کر سوتے وقت مسنون دعائیں کرنے سے انسان اپنے سونے کے اوقات کو بھی عبادت کا رنگ دے سکتا ہے اور انہیں اپنے لئے مبارک بنا سکتا ہے۔دعا ہفتم : سب سے آخر میں رمضان کی برکتوں سے حصہ پانے کا طریق دعا ہے۔رمضان کے ایام کا ماحول دعا کے لئے یقیناً ایک بہترین ماحول ہے۔یہ مہینہ مسلمانوں کے لئے خاص عبادت کا مہینہ ہے۔گویا ساری اسلامی دنیا اس مہینہ کو عملاً عبادت میں گزارتی ہے۔اور مومنوں کی طرف سے اس مہینہ میں نماز اور روزہ اور تلاوت قرآن اور صدقہ وخیرات اور ذکر وغیرہ کے پاکیزہ اعمال اس کثرت اور تنوع کے ساتھ آسمان کی طرف چڑھتے ہیں کہ اگر وہ نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ کئے گئے ہوں تو یقیناً خدا کی خاص الخاص رحمت اور خاص الخاص فضل کو کھینچنے کا موجب ہوتے ہیں۔پھر اگر ایسے موقع پر دعا زیادہ قبول نہ ہو تو کب ہو۔علاوہ ازیں رمضان کے متعلق خدا تعالیٰ کا قرآن شریف میں مخصوص وعدہ بھی ہے کہ میں اس مہینہ میں اپنے بندوں کے بالکل قریب ہو جاتا ہوں اور اُن کی دعاؤں کو خاص طور پر سکتا ہوں۔پس لا ریب یہ مہینہ خاص دُعاؤں کا مہینہ ہے اور جو شخص اس مبارک مہینہ میں اپنے آپ کو دُعاؤں سے محروم رکھتا ہے۔وہ یقیناً ایک بہت ہی شقی اور بد بخت انسان ہے جو گویا ایک شیریں چشمہ کے مونہہ پر پہونچ کر پھر پیا سالوٹ جاتا ہے۔علاوہ ازیں رمضان میں لیلتہ القدر کا واقع ہونا تو گویا سونے پر سہا گہ ہے۔جس کی طرف سے کوئی سچا مومن غافل نہیں ہو سکتا مگر دُعا ان شرائط کے مطابق ہونی چاہیئے جو خدا تعالیٰ نے اس کے لئے مقرر