مضامین بشیر (جلد 1) — Page 502
مضامین بشیر ۵۰۲ کہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کیا جائے۔صدقہ وخیرات انسان کی جسمانی اور روحانی تکالیف کو دُور کرنے اور خدا کے فضل اور رحم کو جذب کرنے میں گو یا اکسیر کا حکم رکھتا ہے۔جو نہی کہ ایک شخص خدا کے کسی مصیبت زدہ بندے کی تکلیف کو دور کرنے کے لئے کوئی قدم اٹھاتا ہے تو خدا اپنے ازلی فیصلہ کے مطابق اس کے اس فعل کو گویا خود اپنے اوپر ایک احسان خیال کرتا ہے اور اس پر فوراً خدائی قدرت نمائی کی وسیع مشینری اس بندے کی تائید میں حرکت کرنے لگتی ہے۔حدیث میں آتا ہے اِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ ٣٠ یعنی صدقہ خدا کے غضب کو دُور کرتا ہے۔تو پھر اس صدقہ کا کیا کہنا ہے جو رمضان جیسے مبارک مہینہ میں خالص خدا کی رضا کے لئے کیا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاعدہ تھا کہ رمضان میں اتنا صدقہ کرتے تھے کہ صحابہ نے آپ کے اس صدقہ کو ایک ایسی تیز ہوا سے تشبیہ دی ہے جو کسی روک کو خیال میں نہیں لاتی اسے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ رمضان میں اتنا صدقہ کرتے تھے کہ اس صدقہ میں اپنی طاقت اور ہمت کو بھی بھول جاتے تھے اور صدقہ میں آپ کا ہاتھ اس طرح چلتا تھا جس طرح ایک تیز آندھی تمام قیود و بند سے آزاد ہو کر چلتی ہے۔واقعی رمضان میں صدقہ و خیرات خدا کی نظر میں بہت ہی بڑا مرتبہ رکھتا ہے۔اور اس سے رمضان کی برکت کو چار چاند لگ جاتے ہیں مگر صدقہ میں یہ بات ضرور مد نظر رکھنی چاہیئے کہ جو لوگ واقعی حاجت مند ہیں انہیں تلاش کر کر کے مدد پہونچائی جائے۔مثلاً کوئی یتیم ہے اور وہ خرچ سے لاچار ہے۔کوئی بیوہ ہے اور وہ تنگ دست ہے کوئی غریب ہے اور وہ گزارہ کی صورت نہیں رکھتا۔کوئی بیمار ہے اور اسے علاج کی طاقت حاصل نہیں۔کوئی مسافر ہے اور زادراہ سے محروم ہے۔کوئی مقروض ہے اور قرض ادا کرنے سے قاصر ہے۔وغیرہ وغیرہ۔ان لوگوں کو تلاش کر کر کے صدقہ پہونچایا جائے اور ایسے رنگ میں پہونچایا جائے کہ اس میں کوئی صورت من وادی کی نہ پیدا ہو بلکہ اگر خدا کسی کو توفیق دے تو صدقہ کا بہتر مقام یہ ہے کہ صدقہ دینے والا صدقہ قبول کرنے والے کا احسان خیال کرے کہ اس کے ذریعہ مجھے خدا کے رستہ میں نیکی کی توفیق ملی رہی ہے۔پھر صدقہ وخیرات کے حلقہ میں جانوروں تک کو شامل کرنا چاہیئے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِيدٍ حَرَّى أَجْرًا ۳۲ یعنی ہر زندہ جگر رکھنے والی چیز پر رحم کرنے میں خدا کی طرف سے اجر ملتا ہے۔خواہ وہ انسان ہو یا حیوان۔یہ سوال کہ صدقہ کتنا ہو اس کے متعلق شریعت نے کوئی حد بندی نہیں مقرر کی۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا عشق رکھنے والوں کے لئے آپ کا یہ نمونہ کافی ہے کہ صدقہ میں انسان کا ہاتھ ایک تیز آندھی کی طرح چلنا چاہیئے۔لیکن میں اپنے ذوق کے مطابق عام لوگوں کے لئے یہ خیال کرتا ہوں کہ اگر رمضان میں اپنی آمدنی کا دسواں حصہ