مضامین بشیر (جلد 1) — Page 501
۵۰۱ مضامین بشیر رکھنی چاہئیں : - الف : جہاں کہیں قرآن شریف میں کوئی حکم امر کی صورت میں آئے۔یعنی کسی بات کا مثبت صورت میں حکم دیا جائے کہ ایسا کرو تو انسان کو اس جگہ رک کر اپنے دل میں یہ غور کرنا چاہیئے کہ کیا میں اس خدائی حکم پر عمل کرتا ہوں۔اگر وہ عمل نہیں کرتا یا کمزوری دکھاتا ہے تو اپنے دل میں عہد کرے کہ میں آئیندہ اس حکم پر عمل کروں گا۔۔ب : جہاں کہیں کوئی حکم نہی کی صورت میں آئے یعنی کسی بات کے متعلق منفی صورت میں حکم دیا جائے کہ یہ کام نہ کرو۔تو اس وقت پڑھنے والا تھوڑی دیر کے لئے رُک کر اپنے دل میں سوچے کہ کیا میں اس نہی سے رُکتا ہوں۔اگر نہیں رکتا یا کمزوری دکھاتا ہے تو آئندہ اصلاح کا عہد کرے۔ج : جہاں کہیں قرآن شریف میں خدا کی کسی رحمت یا انعام کا ذکر آئے تو اس وقت پڑھنے والا اپنے دل میں یہ دعا کرے کہ خدایا یہ رحمت اور یہ انعام مجھے بھی عطا فرما اور مجھے اس سعادت سے محروم نہ رکھ۔و: اور جہاں کہیں قرآن شریف میں کسی عذاب یا سزا کا ذکر ہو تو انسان اس جگہ خدا سے استغفار کرے اور یہ دعا کرے کہ خدایا مجھے اس عذاب اور سزا سے محفوظ رکھیو اور اپنی ناراضگی کے موقعوں سے بچائیو۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر انسان ان چار باتوں کو مد نظر رکھ کر قرآن شریف کی تلاوت کرے گا اور اس کی نیت اچھی ہو گی تو وہ اس تلاوت سے خاص بلکہ اخص فائدہ اٹھائے گا۔افسوس ہے کہ اکثر لوگ قرآن شریف کے نکات اور رموز کے در پے تو رہتے ہیں مگر اس کے عملی پہلو کی طرف بہت کم توجہ دیتے ہیں۔حالانکہ قرآن شریف کا عملی پہلو اس کے نکات اور رموز کی نسبت بہت زیادہ قابلِ توجہ ہے۔بیشک عالم لوگوں اور مذہبی مجادلات میں حصہ لینے والوں کا یہ فرض ہے کہ وہ قرآن شریف کے حکمت و فلسفہ اور اس کے علمی خزانوں کی طرف بھی توجہ دیں مگر وہ بات جس کی ہر متنفس کو ضرورت ہے جس کے بغیر انسان کی روحانی زندگی قائم ہی نہیں رہ سکتی ، وہ قرآن شریف کا عملی پہلو ہے۔اور یہ عملی پہلو صرف اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے کہ جب قرآن شریف کو مندرجہ بالا چار شرائط کے ساتھ مطالعہ کیا جائے۔زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کیا جائے چهارم : چوتھی بات جو رمضان کی برکات سے فائدہ اٹھانے میں از بس مفید و مؤثر ہے، یہ ہے