مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 496 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 496

مضامین بشیر ۴۹۶ اور کامل و مکمل شریعت جس نے خدا کے بھٹکے ہوئے بندوں کو خدا کے قریب تر لانا تھا اور جس کے ذریعہ دنیا میں روحانیت کے دروازے زیادہ سے زیادہ فراخ صورت میں کھلنے والے تھے ، نازل ہونی شروع ہوئی۔دُنیا میں مختلف قوموں نے اپنے لئے خاص خاص دن مقرر کر رکھے ہیں۔جو گویا ان کی قومی تاریخ میں خاص یادگار سمجھے جاتے ہیں اور ان دنوں کو خاص خوشی اور خاص شان کے سے منایا جاتا ہے تا کہ اس ذریعہ سے لوگوں میں قومی زندگی کی روح کو تازہ رکھا جا سکے مگر غور کیا جائے تو ان دنوں کی خوشی اس عظیم الشان دن کی خوشی کے مشابہ کیا حقیقت رکھتی ہے۔جبکہ خدائے زمین و آسمان نے اپنی آخری شریعت کو دنیا پر نازل فرمایا جس کے اختتام پر یہ الہی بشارت جلوہ افروز ہونے والی تھی کہ اليَومَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِينًا ۲۶۔سچ پوچھو تو دنیا میں اگر کوئی دن منانے کے قابل تھا تو وہ یہی تھا کہ جب خدا کی اس آخری اور کامل و مکمل شریعت کے نزول کا آغاز ہوا اور انسان کے پیدا کئے جانے کی غرض جہاں تک کہ خدا کے فعل کا تعلق تھا پوری ہوگئی۔پس رمضان کی سب سے پہلی سب سے بڑی اور سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ اسلام کی پیدائش کا دن ہے۔ہاں وہی اسلام جو ہماری انفرادی اور قومی زندگی کی روح و رواں اور ہمیں اپنے خالق و مالک کے ساتھ باند ھنے کی آخری زنجیر ہے۔خدا اپنے بندوں کے بالکل قریب ہے اس کے بعد دوسری خصوصیت رمضان کو یہ حاصل ہے اور یہ خصوصیت گویا پہلی خصوصیت کا ہی نتیجہ اور تمہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق مومنوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ میں اس مبارک مہینہ میں اپنے بندوں کے بالکل قریب ہو جایا کروں گا اور ان کی دعاؤں کو خصوصیت سے سنوں گا۔یہ وعدہ قرآن شریف میں نہایت واضح الفاظ میں موجود ہے۔اور حدیث میں بھی اس کا نہائت نمایاں طور پر ذکر آتا ہے۔اور یہ وعدہ ایسا ہی ہے جیسے کہ بڑے بڑے بادشاہ اپنی سلطنتوں کے خاص یادگار والے ایام میں جبکہ وہ کوئی خاص جشن مناتے ہیں اپنی رعایا میں غیر معمولی طور پر انعام و اکرام تقسیم کیا کرتے ہیں۔پس خدا نے بھی جو ارحم الراحمین ہے اس بات کو پسند فرمایا کہ وہ اپنے پیارے مذہب کی سالگرہ کے موقع پر اپنے خزانوں کا مونہ کھول کر اپنے انعاموں کے حلقہ کو زیادہ سے زیادہ وسیع کر دے۔چنانچہ فرماتا ہے : - إِذَا سَالَكَ عِبَادِى عَنِى فَإِنِّى قَرِيبٌ ُأجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ