مضامین بشیر (جلد 1) — Page 495
۴۹۵ مضامین بشیر خدا نے ہمارے لئے اس کا موقع میتر کیا مگر ہم پھر بھی اس کی برکتوں سے محروم رہے۔رمضان کا چاند آیا اور برا برتمیں دن تک ہر مومن مسلمان کے دروازہ کو کھٹکھٹا تا پھرا اور اس کے ساتھ خدا کی نعمتوں کا ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ تھا جسے وہ گویا محض مانگنے پر تقسیم کرنے کو تیار تھا مگر بہت کم لوگوں نے اس کے لئے دروازہ کھولا اور تمہیں دن کے بعد وہ اپنا بوریا بستر باندھ کر پھر آسمان کی طرف اُٹھ گیا اور خدا کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ تیرے بندے تیری نعمتوں کی قدر کو نہیں پہچانتے۔میں نے تیری طرف سے تیرے ہر بندے کے سامنے تیرے انعاموں کو پیش کیا مگر سوائے چند گنتی کے لوگوں کے میں نے سب کو سوتے ہوئے پایا اور وہ میرے جگانے پر بھی نہیں جاگے۔میں نے انہیں ہوشیار کیا اور ہلایا اور جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر بیدار کرنے کی کوشش کی مگر وہ بیدار نہ ہوئے۔میں نے انہیں آوازیں دیں اور بتایا کہ دیکھو میں تمہارے خدا کی طرف سے تمہارے لئے ایک تحفہ لایا ہوں مگر انہوں نے آنکھ تک نہ کھولی بلکہ میری طرف سے کروٹ بدل کر پھر گہری نیند کے سمندر میں غرق ہو گئے۔رمضان کے مہینہ کی یہ شہادت جو ہرست اور غافل اور بے دین شخص کے خلاف قیامت کے دن پیش ہونے والی ہے کس قدر ہولناک اور کس قدر ہیبت ناک اور کس قدر دل ہلا دینے والی ہے مگر پھر بھی بہت ہی کم لوگ خواب غفلت سے بیدار ہوتے ہیں اور ہم میں سے اکثر کا یہی حال ہے کہ جس حالت میں ہمیں رمضان پاتا ہے اسی حالت میں بلکہ اس سے بھی بدتر حالت میں ہمیں چھوڑ کر واپس چلا جاتا ہے اور ہم اپنے مہربان آقا و مالک سے ویسے کے ویسے ہی دور رہتے ہیں۔یہ وہ جذبات ہیں جو اس رمضان کے مہینہ میں میرے دل میں پیدا ہوئے۔بلکہ پیدا ہورہے ہیں اور میں نے مناسب خیال کیا کہ ایک نہایت مختصر مضمون کے ذریعہ سب سے پہلے اپنے آپ کو اور اس کے بعد اپنے عزیزوں اور دوستوں کو بتاؤں کہ رمضان کی برکتیں کیا ہیں اور ان سے کس طرح اور کس رنگ میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔رمضان کی سب سے بڑی خصوصیت۔سو جاننا چاہیئے کہ رمضان کی سب سے بڑی خصوصیت جس کی وجہ سے اسے خدا کی نظر میں خاص برکت حاصل ہے ، یہ ہے کہ وہ اسلام کی پیدائش کا مہینہ ہے کیونکہ جیسا کہ قرآن شریف نے بتایا ہے اور حدیث اور تاریخ سے تفصیلاً ثابت ہے قرآن شریف کے نزول کی ابتداء اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پہلی وحی جس سے اسلام کی بنیاد قائم ہوئی۔رمضان ہی کے مبارک مہینہ میں ہوئی تھی۔پس یہ مہینہ گویا اسلام کی سالگرہ کا مہینہ ہے۔یعنی وہ مہینہ جس میں خدا کی آخری