مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 497 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 497

۴۹۷ مضامین بشیر فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي۔۲۷ د یعنی اے رسول جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھیں کہ رمضان میں میری صفات کا کس طرح ظہور ہوتا ہے تو تو ان سے کہدے کہ میں رمضان میں اپنے بندوں کے قریب تر ہو جاتا ہوں اور میں پکارنے والے کی پکار کوسنتا اور اس کا جواب دیتا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ پکارنے والا میرے احکام کو مانے اور مجھ پر ایمان لائے۔قریب ہونے سے مراد اس جگہ قریب ہونے سے یہ مراد نہیں کہ گویا خدا کی ذات لوگوں کے قریب ہو جاتی ہے کیونکہ خدا کوئی مادی چیز نہیں ہے کہ اس کی ذات قریب ہو سکے۔بلکہ مراد یہ ہے کہ خدا کی صفت رحم خاص طور پر جوش میں آکر بندوں کے قریب تر ہو جاتی ہے۔علاوہ ازیں اسلام یہ بھی تعلیم دیتا ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ کی راتوں میں ایک رات ایسی آیا کرتی ہے اس کی ایک گھڑی میں خدائی رحمت اور صفت قبولیت دعا کا غیر معمولی جوش کے ساتھ اظہار ہوتا ہے۔اس رات کو اسلامی اصطلاح میں لیلۃ القدر کہتے ہیں اور وہ عموماً طاق راتوں میں سے کوئی رات ہوتی ہے اور اس کا تعین وقت اس لئے پردہ میں رکھا گیا ہے تا کہ لوگ اس کی جستجو میں زیادہ سے زیادہ عبادت کر سکیں۔اب غور کرو کہ جس ذات والا صفات کی صفت رحمت پہلے سے ہی اس کی ہر دوسری صفت پر غالب ہے۔وہ اپنی رحمت کے خاص لمحات میں کس قدر رحیم و کریم ہو گا۔پس یہ دوسری خصوصیت ہے جو رمضان کو حاصل ہے کہ اس میں خدا کی صفت رحمت کا خاص طور پر ظہور ہوتا ہے اور مومنوں کی دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔خاص عبادتیں ان دو برکتوں کے علاوہ رمضان کو ایک تیسری برکت یہ بھی حاصل ہے کہ اس میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے بعض خاص عبادتیں مقرر فرما دی ہیں۔مثلاً روزہ ، تراویح اور اعتکاف وغیرہ جن کی وجہ سے یہ مہینہ گویا ایک خاص عبادت کا مہینہ بن گیا ہے اور ظاہر ہے کہ جو زمانہ خاص عبادت میں گزرے گا ، وہ لازماً خدا کی طرف سے خاص برکات کا جاذب اور خاص برکات کا حامل بن جائے گا۔