مضامین بشیر (جلد 1) — Page 494
مضامین بشیر ۴۹۴ رمضان کی برکات سے فائدہ اٹھانے کا طریق رمضان کا مبارک مہینہ اور اس کی برکات غالباً کوئی مسلمان کہلانے والا شخص اس بات سے ناواقف نہیں ہوگا کہ رمضان کا مہینہ ایک نہائت ہی مُبارک مہینہ ہے مگر بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ اس کی برکتوں سے عملاً اور تفصیلاً کس طرح فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے بلکہ بعض لوگ تو اس بات سے بھی واقف نہیں کہ رمضان کا مہینہ کیونکر اور کس وجہ سے مبارک ہے۔اور ظاہر ہے کہ جب تک انسان کو کسی چیز کی برکت کا باعث معلوم نہ ہو اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جب تک انسان کسی با برکت چیز سے فائدہ اٹھانے کا طریق نہ جانتا ہو، اس کے لئے اس کی برکت خواہ وہ کتنی ہی عظیم الشان ہو۔ایک کھیل بلکہ ایک موہوم چیز سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔کسی شاعر نے کہا ہے اور کیا خوب کہا ہے کہ ؎ ابن مریم ہوا کرے کوئی میرے دُکھ کی دوا کرے کوئی ہے د یعنی اگر کوئی شخص اپنی جگہ ابن مریم کا مرتبہ رکھتا ہے۔( جن کے متعلق یہ مشہور ہے کہ وہ بیماروں کو صرف ہاتھ لگا کر اچھا کر دیتے تھے ) لیکن مجھے اس شخص سے شفا حاصل نہیں ہوتی اور میرا دکھ ویسے کا ویسا رہتا ہے تو میرے لئے اس شخص کا ابن مریم ہونا کیا خوشی کا موجب ہوسکتا ہے۔مجھے تو اس بات کی ضرورت ہے کہ کوئی شخص میرے دُکھ کو دور کرے۔“ ماہ رمضان کی شہادت قیامت کے دن بعینہ اسی طرح اگر رمضان کا مہینہ مبارک ہے اور وہ یقیناً مُبارک ہے اور بہت مبارک ہے لیکن ہم اس کی برکتوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے یا نہیں اٹھاتے تو اس کا مبارک ہونا ہمارے کس کام کا ہے بلکہ اس صورت میں یہی مبارک مہینہ قیامت کے دن ہمارے خلاف شہادت کے طور پر پیش ہو گا کہ : - غالب