مضامین بشیر (جلد 1) — Page 487
۴۸۷ مضامین بشیر کرنے والوں اور سب پیار کئے جانے والوں سے زیادہ پیار کرنے والے محب ومحبوب سے ملنے کے لئے نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہمیشہ کی راحت میں ہم آغوش ہو جانے کے لئے موت کے دروازے سے گزرتی ہے۔پاک انجام پانے والے شخص کے لئے موت یقیناً ایک عظیم الشان عروسی جشن ہے۔اور کہنے والے نے بالکل سچ کہا ہے کہ عروسی بود نوبت ما تمت اگر برنکوئی شود خاتمت عجیب وغریب منظر یہ شعر منشی ظفر احمد صاحب مرحوم کی تدفین کے وقت میرے کانوں میں قریباً چاروں طرف سے پہونچا اور میرے دل نے کہا سچ ہے کہ موت ایک عجیب و غریب پردہ ہے، جس کے ایک طرف جدا ہونے والے کے دوست اور اعزہ اپنے فوت ہونے والے عزیز کی عارضی جدائی پر غم کے آنسو بہاتے ہیں اور دوسری طرف پہلے سے گزرے ہوئے پاک لوگ اور خدا کے مقدس فرشتے بلکہ خود خدائے قدوس آنے والی روح کی خوشی میں ایک عروسی جشن کا نظارہ دیکھتے ہیں۔اللہ اللہ ! یہ ایک کیسا عجیب منظر ہے کہ ایک طرف صف ماتم ہے اور دوسری طرف جشن شادی اور درمیان میں ایک اڑتی ہوئی انسانی زندگی کے آخری سانس کا پھڑ پھڑاتا ہوا پردہ۔گویا مرنے والے کے ایک کان میں رونے کی آواز پہونچ رہی ہوتی ہے اور دوسرے کان میں خوشی کے ترانے اور وہ اس عجیب وغریب مرکب ماحول میں گھرا ہوا اگلے جہان میں قدم رکھتا ہے۔مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ اصل جذ بہ وہی ہے جو ملاء اعلیٰ میں پایا جاتا ہے۔جسے شاعر نے جشنِ شادی کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔کیونکہ وہ انسان کی زندگی کے آغاز کا اعلان ہے لیکن افسوس صد افسوس کہ گو خدا نے سارے انسانوں کو ہی اس مبارک جشن کی دعوت دی ہے اور اس بابرکت تحفہ کو ہر روح کے سامنے محبت اور رحمت کے ہاتھوں سے پیش کیا ہے مگر بہت کم لوگ اسے قبول کرتے ہیں اور اکثر نے اپنے لئے یہی بات پسند کی ہے کہ جب وہ اس دنیا سے جدا ہو کر اگلے جہان میں قدم رکھیں تو ان کے لئے یہ جہان اور اگلا جہان دونوں ماتم کدہ بن جائیں۔خدایا تو ایسا فضل فرما کہ ہم اور ہمارے وہ سب عزیز جن کے ساتھ ہمیں محبت ہے اور وہ سب لوگ جنہیں ہمارے ساتھ محبت ہے۔یعنی تیرے وہ سارے بندے جو احمدیت کی پاک لڑی میں محبت اور اخلاص کے ساتھ پروئے ہوئے ہیں ان کی زندگیاں تیری رضا کے ماتحت گزریں اور اگر ان سے کوئی گناہ سرزد ہو تو اے ہمارے رحیم و مہربان آقا ! تو اس وقت تک ان سے