مضامین بشیر (جلد 1) — Page 488
مضامین بشیر ۴۸۸ موت کو روکے رکھ ، جب تک کہ تیری قدرت کا طلسمی ہاتھ انہیں ان کے گناہوں سے پاک وصاف کر کے تیرے قدموں میں حاضر ہونے کے قابل بنادے تا کہ ان کی موت عروسی جشن والی موت ہو اور وہ تیرے دربار میں اپنے گنا ہوں سے دھل کر اور پاک وصاف ہوکر پہونچیں۔اے خد تو ایسا ہی کر۔ہاں تجھے تیری اس عظیم الشان رحمت کی قسم ہے جو تیرے پاک مسیح کی بعثت کی محرک ہوئی ہے کہ تو ایسا ہی کر۔آمین یا رب العالمین۔ساٹھ سال کے عرصہ میں ہر قدم پہلے سے آگے میں اپنے مضمون سے ہٹ گیا۔میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب مرحوم کی تدفین کا ذکر کر رہا تھا کہ اس وقت بہت سے لوگوں کی زبان پر یہ ذکر تھا کہ ان کی وفات ایسے حالات میں ہوئی ہے جو ہر مومن کے لئے باعث رشک ہونی چاہیئے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ منشی صاحب مرحوم کی زندگی اور موت دونوں نے خدا کی خاص، بلکہ خاص الخاص برکت سے حصہ پایا ہے۔ابھی وہ بچپن کی عمر سے نکل ہی رہے تھے اور نو جوانی کا آغاز تھا کہ خدا کی ازلی رحمت انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں لے آئی۔یہ غالباً ۱۸۸۳ء کا سال تھا جبکہ براہین احمدیہ زیر تصنیف تھی اور ابھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے مجددیت کے دعویٰ کا اعلان بھی نہیں ہوا تھا۔وہ دن اور آج کا دن جن کے درمیان قریباً ساٹھ سال کا عرصہ گزرتا ہے ، مرحوم کا ہر قدم پہلے قدم سے آگے پڑا اور مرحوم کی محبت اور اخلاص نے اس طرح ترقی کی جس طرح ایک تیزی سے بڑھنے والا پودا اچھی زمین اور اچھی آبپاشی اور اچھی پرداخت کے نیچے ترقی کرتا ہے، اس زمانہ میں مصائب کے زلزلے بھی آئے ، حوادث کی آندھیاں بھی چلیں ، ابتلاؤں کے طوفانوں نے بھی اپنا زور دکھایا مگر یہ خدا کا بندہ آگے ہی آگے قدم اٹھاتا گیا۔گرنے والے گر گئے ، ٹھوکر کھانے والوں نے ٹھوکریں کھائیں، لغزش میں پڑنے والے لغزشوں میں پڑ گئے مگر منشی صاحب مرحوم کا سر ہر طوفان کے بعد اوپر ہی اوپر اٹھتا نظر آیا اور بالآخر سب کچھ دیکھ کر اور سارے عجائبات قدرت کا نظارہ کر کے وہ موت کے عروسی جشن میں سے ہوتے ہوئے اپنے آقا ومحبوب کے قدموں میں پہونچ گئے۔اس زندگی سے بہتر کونسی زندگی اور اس موت سے بہتر کونسی موت ہو گی ؟ شیع مسیح کے زندہ جاوید پروانے منشی صاحب مرحوم ان چند خاص بزرگوں میں سے تھے جن کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام