مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 486 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 486

۴۸۶ مضامین بشیر سوائے اس کے کہ پرانے صحابہ کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار کے قریب ترین حصہ میں ایک پلاٹ ریزرو کر دیا گیا ہے تا کہ اس حصہ میں دفن ہو کر السابقون الاولون اپنے محبوب آقا کے پاس جگہ پاسکیں۔یعنی جس طرح وہ زندگی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریب تھے ، اسی طرح موت کے بعد بھی قریب رہیں اور یہ ان کا ایک ادنی ساحق ہے جو جماعت کی طرف سے اس رنگ میں ادا کیا جاتا ہے۔ورنہ بہشتی مقبرہ کا حصہ ہونے کے لحاظ سے مقبرہ کی ساری زمین ایک ہی حکم میں ہے اور کوئی امتیاز نہیں ) موت میں جشن شادی کا رنگ دفن کے وقت جس کے لئے گیس کی روشنی کا انتظام تھا، میں نے اکثر لوگوں کی زبان سے یہ شعر سنا اور واقعی اس موقع کے لحاظ سے یہ ایک نہائت عمدہ شعر تھا کہ ؎ عروسی بود نوبت ما تمت اگر برنکوئی شود خاتمت د یعنی اگر تیری وفات نیکی اور تقویٰ پر ہوتی ہے تو پھر یہ وفات ماتم کا رنگ نہیں رکھتی بلکہ گویا ایک جشن شادی کا رنگ رکھتی ہے۔“ یہ ایک نہائت عمدہ شعر ہے اور نہائت عمدہ موقع پر لوگوں کی زبان پر آیا اور مجھے اس شعر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی ) کا وہ مبارک فرمان یاد آ گیا۔جو آپ نے حضرت سعد بن معاذ رئیس انصار کی وفات پر ارشادفرمایا تھا۔اور وہ یہ کہ : - اهْتَزَّ عَرْشُ الرَّحْمَنِ لِمَوْتِ سَعْدِ مِنْ مُعَاذِ۔۲۳ 66 یعنی سعد کی موت پر تو خدائے رحمن کا عرش بھی جھومنے لگا۔“ واقعی خواہ دُنیا کے لوگ سمجھیں یا نہ سمجھیں مگر حقیقت یہی ہے کہ جس شخص کا انجام اچھا ہو گیا اور اس پر ایسے وقت میں موت آئی کہ جب خدا اس پر راضی تھا اور وہ خدا پر راضی تھا تو اس کی موت حقیقتاً ایک جشن شادی ہے۔بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کر کیونکہ جہاں شادی کا جشن دوفانی انسانوں یعنی مرد و عورت کے ملنے پر منایا جاتا ہے۔حالانکہ یہ ملنا عارضی ہوتا ہے اور اس وقت کو ئی شخص یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ آیا یہ جوڑا خوشی کا باعث بنے گا یا کہ غم کا ، اچھے نتائج پیدا کرے گا یا کہ خراب ، خدا کی رحمت کا پیش خیمہ ہو گا یا کہ عذاب کا۔وہاں اس کے مقابل پر اُس عظیم الشان جشن کا کیا کہنا ہے کہ جس میں ایک پاک روح یا ایک پاک شدہ روح اپنے ازلی ابدی خدا، اپنے رحیم و ودود آقا ، ہاں سب پیار