مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 485 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 485

۴۸۵ مضامین بشیر اس لئے وہ میرے خط کے پہونچنے کے چند گھنٹہ بعد یعنی ۲۰ اگست ۱۹۴۱ء کی صبح ڈھائی بجے کے قریب وفات پا کر اپنے محبوب حقیقی کے قدموں میں جا پہونچے۔فانالله وانا اليه راجعون وكل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذی الجلال والاکرام۔وفات کی اطلاع منشی صاحب مرحوم کی وفات کی اطلاع مجھے شیخ محمد احمد صاحب کی تار کے ذریعہ ملی جو مجھے ۲۰ اگست کی دو پہر کو وصول ہوئی۔اس تار میں یہ اطلاع بھی درج تھی کہ منشی صاحب کا جنازہ آرہا ہے اور قادیان میں شام کے قریب پہونچے گا۔میں نے اس تار کے ملتے ہی حضرت مولوی شیر علی صاحب مقامی امیر اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور منشی کظیم الرحمن صاحب اور افسر صاحب صیغہ مقبرہ بہشتی اور ایڈیٹر صاحب الفضل کی خدمت میں اطلاع بھجوا دی اور دفتر مقبرہ بہشتی کے ہیڈ کلرک صاحب کو اپنے پاس بلا کر یہ مشورہ دیا کہ منشی صاحب مرحوم چونکہ قدیم ترین صحابہ میں سے تھے۔اس لئے ان کی قبر خاص صحابہ کے قطعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار کے قریب تر تیار کرائی جائے۔چنانچہ قبروں کی جاری شدہ لائن کو ترک کر کے جہاں اس لائن کے وسط میں ایک پہلے سے تیار شدہ قبر موجود تھی۔اس کے ساتھ کی نئی لائن میں رستہ کے اوپر نئی قبر تیار کی گئی تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ مقرب صحابی جو موجودہ صحابیوں میں سے غالباً سب سے سابق تھا اپنے محبوب کے مزار کے قریب تر جگہ پا سکے۔اس کے علاوہ میں نے مقامی امیر حضرت مولوی شیر علی صاحب کی خدمت میں عرض کر کے قادیان کے تمام محلہ جات میں جنازہ کی شرکت کے لئے ایک ابتدائی اعلان بھی کروا دیا۔نماز جنازہ اور تدفین۔جنازہ عصر کی نماز کے بعد بذریعہ لاری قادیان پہونچا۔چونکہ اس وقت نماز مغرب کا وقت قریب تھا اور آخری اعلان کے لئے وقت کافی نہیں تھا اس لئے یہ تجویز کی گئی کہ نماز جنازہ مغرب کے بعد ہو اور اس عرصہ میں دوبارہ تمام محلوں کی مساجد میں نماز مغرب کے وقت آخری اعلان کرایا گیا۔تا کہ دوست زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہوں۔چنانچہ الحمد للہ کہ باوجود اس کے کہ رات کا وقت تھا اور گرمی کی بھی شدت تھی۔تمام محلہ جات سے لوگ کافی کثرت کے ساتھ شریک ہوئے اور مدرسہ احمدیہ کے صحن میں نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد حضرت منشی صاحب کو بہت سے مومنوں کی دعاؤں کے ساتھ مقبرہ بہشتی کے خاص قطعہ میں دفن کیا گیا۔(یا درکھنا چاہیئے کہ یہ قطعہ ویسے کوئی خصوصیت نہیں رکھتا