مضامین بشیر (جلد 1) — Page 461
۴۶۱ مضامین بشیر کبھی ادھر بھاگتا تھا اور کبھی اُدھر کبھی اپنی پگڑی اتار کر حضرت صاحب کی ٹانگوں کو باندھتا تھا اور کبھی پاؤں دبانے لگ جا تا تھا اور گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ کا نچتے تھے اور مرزا فضل احمد کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جذبات اور تاثرات روایت نمبر ۳۷ میں صفحہ ۲۹ پر ان الفاظ میں بیان ہوئے ہیں اور یہ وہی روایت ہے جس کے ایک حصہ کو ایڈیٹر صاحب پیغام صلح نے اس بحث میں پیش کیا ہے۔’ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ فضل احمد بہت شرمیلا تھا۔حضرت صاحب کے سامنے آنکھ نہیں اٹھاتا تھا۔حضرت صاحب اس کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ فضل احمد سیدھی طبیعت کا ہے اور اس میں محبت کا مادہ ہے مگر دوسروں کے پھسلانے سے ادھر جا ملا ہے نیز والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ جب فضل احمد کی وفات کی خبر آئی تو اس رات حضرت صاحب قریباً ساری رات نہیں سوئے اور دو تین دن تک مغموم سے رہے۔6 ❝ کیا یہی تقوی وطہارت ہے یہ وہ حقائق ہیں جو ایڈیٹر صاحب پیغام صلح کی آنکھوں کے سامنے تھے اور جس جگہ سے انہوں نے سیرت المہدی کی عبارت نقل کی ہے اس کے آگے پیچھے یہ سب الفاظ درج ہیں مگر تعصب کا ستیا ناس ہو ان جملہ حقائق کی طرف آنکھیں بند کر کے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے لکھے ہوئے اشتہار کو پس پردہ ڈال کر ہاں وہی اشتہار جسے خود مولوی محمد علی صاحب نے اپنی طرف سے پیش کر کے اس پر اپنے چیلنج کی بنیاد رکھی تھی سیرۃ المہدی کے چند فقروں کو لا تَقْرَبُوا الصَّلوة کی طرح دوسری روایتوں سے کاٹ کر پیش کر دیا گیا ہے۔کیا یہی اس تقویٰ اور طہارت کا نمونہ ہے جس پر ہمارے غیر مبایع دوست اپنی کامیابی کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔روایت پیش کردہ سے کیا ثابت ہوتا ہے اور پھر جس عبارت کو پیش کر کے اپنی ذلت اور شرمندگی کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے وہ بھی سوائے اس کے کچھ ثابت نہیں کرتی کہ جب مرز افضل احمد صاحب نے محمدی بیگم کے معاملہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشاء کے ماتحت اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو اس کے بعد وہ اپنے