مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 460 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 460

مضامین بشیر مذکور کی عبارت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنی لکھی ہوئی عبارت ہے اور سیرت المہدی کی روایت بہر حال ایک زبانی روایت ہے جو واقعہ کے سالہا سال بعد انسانی حافظہ کے خطرات کے تھپیڑے کھاتی ہوئی معرض تحریر میں آئی ہے اور ہر عقل مند انسان کے نزدیک ان دونوں کے وزن اور قدر و قیمت میں بہت بھاری فرق ہے۔پس اگر بالفرض سیرت المہدی کی روایت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہار کے مضمون میں کوئی فرق ہے تو ہر عقل مند اور غیر متعصب انسان کے نزدیک اس فرق کی تشریح سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہو سکتی کہ اشتہار کا مضمون درست ہے اور روایت میں غلطی لگ گئی ہے لیکن یہ سب کچھ میں نے ”بالفرض کے لفظ کے ساتھ صرف اصولی تشریح کے رنگ میں عرض کیا ہے ور نہ حق یہ ہے کہ ایڈیٹر صاحب ”پیغام صلح نے سیرت المہدی کی روایت کے پیش کرنے میں بھی دیانتداری سے کام نہیں لیا اور ان لوگوں کا پس خوردہ کھایا ہے جو دین و مذہب کو کھیل بناتے ہوئے قرآن شریف سے صرف لَا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ 1 کے الفاظ علیحدہ کر کے پیش کر دیا کرتے ہیں کیونکہ خود سیرۃ المہدی ہی کی دوسری روایتوں میں صاف مذکور ہے کہ مرزا فضل احمد صاحب عاق نہیں ہوئے تھے اور مرز افضل احمد صاحب کی وفات پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام انہیں اپنا وارث اور محبت کرنے والا بیٹا خیال فرماتے تھے۔چنانچہ سیرت المہدی حصہ اول کی روایت نمبر ۴۱ صفحہ ۳۴ میں یہ الفاظ آتے ہیں : - والدہ صاحبہ ( یعنی حضرت ام المومنین ) فرماتی ہیں کہ فضل احمد نے اس وقت ( یعنی جب محمدی بیگم والا واقعہ پیش آیا تھا اور حضرت مسیح موعود نے فضل احمد سے ایک مطالبہ فرمایا تھا ) اپنے آپ کو عاق ہونے سے بچالیا اور ر وایت نمبر ۲۵ صفحہ ۲۲ میں یہ الفاظ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب مرزا فضل احمد فوت ہوا تو اس کے کچھ عرصہ بعد حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ تمہاری اولاد کے ساتھ جائیداد کا حصہ بٹانے والا ایک فضل احمد ہی تھا سو وہ بے چارہ بھی گزر گیا گزرگیا“ یعنی بالفاظ دیگر وہ عاق نہیں ہوا تھا بلکہ اگر زندہ رہتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وارث بنتا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ مرزا فضل احمد صاحب کی محبت کا ذکر روایت نمبر ۳۶ صفحہ ۲۸ میں درج ہے اور اس روایت میں حضرت والدہ صاحبہ یہ بیان کر کے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دوران سر کا سخت دورہ پڑا تھا مرزا فضل احمد صاحب کے متعلق بیان فرماتی ہیں کہ : - اس وقت مرزا فضل احمد کے چہرہ پر ایک رنگ آتا تھا اور ایک جا تا تھا اور وہ