مضامین بشیر (جلد 1) — Page 462
مضامین بشیر ۴۶۲ تعلق اور محبت کے اظہار کے لئے حضرت صاحب کے پاس ہی ٹھہر نے لگ گئے تھے اور دوسروں کے ساتھ ملنا جلنا بالکل بند کر دیا تھا لیکن اس کے کچھ عرصہ بعد اس سختی کے رویہ کو ترک کر کے پھر دوسرے رشتہ داروں سے ملنا جلنا اور ان کے پاس ٹھہر نا شروع کر دیا۔گو یا طلاق والے اصل امر کے علاوہ وہ زائد پابندی جو مرز افضل صاحب نے اپنے اوپر عائد کر لی تھی اس میں وہ آہستہ آہستہ ڈھیلے ہو گئے۔یہ وہ مفہوم ہے جو سیرۃ المہدی کی پیش کردہ روایت سے نکلتا ہے۔اب ہمارے غیر مبالع اصحاب خدا را سوچیں کہ اس مفہوم کو امرزیر بحث سے کیا تعلق ہے۔ظاہر ہے کہ جیسا کہ اشتہار مورخہ ۲ مئی ۱۸۹۱ء سے تفصیلاً اور صراحہ اور سیرۃ المہدی کے بیان سے مجملاً ثابت ہوتا ہے وہ معین مطالبہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مرزا فضل احمد صاحب سے کیا تھا اور اور جس پر ان کے عاق ہونے یا نہ ہونے کا دارو مدار تھا وہ صرف یہ تھا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دیں اور یہ ایک مسلم حقیقت ہے مرزا افضل احمد صاحب نے اس مطالبہ کو فوراً بلا توقف پورا کر دیا اور عاق ہونے سے بچ گئے۔اب جب یہ تین باتیں اشتہار مورخہ ۲ مئی ۱۸۹۱ء اور روایات سیرۃ المہدی ہر دو سے یقینی اور قطعی طور پر ثابت ہیں یعنی اوّل: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے بیوی کو طلاق دینے کا مطالبہ۔دوم : مرز افضل احمد صاحب کی طرف سے اس مطالبہ کا فوراً پورا کر دیا جانا اور سوم : اس مطالبہ کی تعمیل کے نتیجہ میں مرز افضل احمد صاحب کا عاق ہونے سے بچ جانا۔تو پھر ایک ڈوبتے ہوئے شخص کی طرح ادھر اُدھر کی باتوں پر ہاتھ مارکر سہارا ڈھونڈ نا ڈوبنے والے شخص کو ڈوبنے سے تو ہر گز نہیں بچا سکتا البتہ اسے غرقابی کی ہلاکت کے علاوہ دنیا کی ہنسی کا نشانہ ضرور بنا دیتا ہے۔مرزا افضل احمد صاحب نے اگر اپنی محبت اور وفاداری کے جوش میں بیوی کو طلاق دینے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ٹھہرنا شروع کر دیا اور دوسروں سے گویا بالکل ہی قطع تعلق کر کے الگ ہو گئے لیکن بعد میں آہستہ آہستہ پھر دوسروں سے میل ملاپ شروع کر دیا تو خدا را ہمیں بتایا جائے کہ اس کا طلاق والے واقعہ اور عاق والے معاملہ پر جو اس بحث میں اصل بنیادی چیز ہیں ، میں کیا اثر پڑا جب یہ دو حقیقتیں پھر بھی قائم رہیں تو بہر حال ہمارا دعویٰ ثابت ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے اس حوالہ کے پیش کرنے میں ناجائز تصرف کا رنگ اختیار کیا ہے اور یہ کہ مرزا فضل احمد صاحب ہرگز عاق شدہ نہیں تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان سے غیر احمدی ہونے کے سوا اور کوئی شکایت نہیں تھی۔